تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 54
تاریخ احمدیت۔جلد 24 54 سال 1967ء میں بہت سے ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کی برکتوں کو اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں اور جن کا رب رزاق سے تعلق ہے۔پھر ایک واقف زندگی یہ یقین رکھتا ہے کہ حقیقی شانی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔جس وقت وہ یا اس کا کوئی عزیز جس کے اخراجات کا بار اُس پر ہے، بیمار ہوجاتا ہے تو اُسے اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ نظام سلسلہ یا اس کے وسائل مہنگی دوا کے متحمل نہیں ہو سکتے۔بلکہ وہ جانتا ہے کہ شفا دینا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔جب وہ شفا دینے پر آئے تو وہ مٹی کی ایک چٹکی میں شفا رکھ دیتا ہے اور جب تک شفا کا حکم آسماں سے نازل نہ ہو۔تو ماہر ڈاکٹر اور بہترین ادویہ بھی کسی کو شفا نہیں دے سکتیں۔ایسے نظارے جیسے پہلوں نے دیکھے ہیں۔ہماری جماعت نے بھی دیکھے ہیں۔غرض ایک واقف زندگی خدا تعالیٰ کی صفات پر یقین رکھتے ہوئے حقیقی تو کل اپنے رب پر کرنے والا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے سوا کسی حالت میں اور کسی ضرورت کے وقت وہ کسی اور کی طرف نہیں جھکتا۔اگر جامعہ احمدیہ میں پڑھنے والے اور اس سے فارغ ہونے والے اس قسم کے واقف نکلیں تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ بہت جلد خدا تعالیٰ وہ عظیم انقلاب پیدا کر دے گا جس عظیم انقلاب کو پیدا کرنے کے لئے اس نے اس زمانہ میںحضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کومبعوث فرمایا ہے۔49 66 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا جلسہ سالانہ کیرنگ کے لئے روح پرور پیغام ۶،۱۵ اراپریل ۱۹۶۷ء کو جماعت احمدیہ کیرنگ (اڑیسہ، انڈیا) کا سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔اس موقع کے لئے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے حسب ذیل روح پرور پیغام ارسال فرمایا :۔"بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود پیارے دوستو ! عزیز بھائیو! خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر السلام عليكم ورحمة الله وبركاته