تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 701
تاریخ احمدیت۔جلد 24 679 سال 1968ء چنانچہ جب نومبر ۱۹۵۰ء میں ڈاکٹر سلیمہ بیگم صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کی تقریب رخصتانہ پر حضرت حافظ صاحب نے تلاوت فرمائی تو حضرت مصلح موعود نے فرمایا اتنا صحیح قرآن میں نے آج تک کسی کو پڑھتے نہیں دیکھا اور حافظ صاحب سے دریافت فرمایا کہ آپ نے اتنی صحت کے ساتھ قرآن پڑھنا کس سے سیکھا؟ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے عرض کیا کہ دہلی سے خاص قاری منگوائے گئے تھے۔انہی سے حافظ صاحب نے قرآن کریم پڑھا اور حفظ کیا تھا۔اولاد:۔ا۔عبدالرحمان خان صاحب۔۲۔عبد الواحد خان صاحب۔۳۔عبدالحفیظ خان صاحب۔عبد الغفار خان صاحب حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی ولادت: ۱۸۸۴ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات: ۳۰ را گست ۱۹۶۸ء 47 حضرت شیخ فضل احمد صاحب نے ۲۷ /۱اپریل ۱۹۳۸ء کو اپنے ابتدائی واقعات تحریر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔۱۹۰۴ء میں برادرم ماسٹر محمد طفیل خان صاحب یاد میرے پاس انگریزی اخبار آبزرور لاہور (THE OBSERVER, LAHORE) کے دفتر میں جہاں میں ملازم تھا تشریف لائے اور مجھ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کر کے بیعت کی تحریک کی۔اس پر میں نے حضرت اقدس کی خدمت مبارک میں عریضہ لکھا کہ مجھے ریویو اردو کے اس وقت تک کے تمام شائع شدہ پرچے بھیج دیئے جائیں۔حضور نے وہ تمام پرچے بغیر وصولی قیمت کے مجھے بھجوا دئیے۔ان ہی ایام میں میں نے تحریری بیعت کر لی مگر میں لاہور سے باہر جا کر مختلف مقامات میں سرکاری ملازمت کی تلاش میں رہا یہاں تک کہ دسمبر ۱۹۰۴ء میں انبالہ چھاؤنی میں سرکاری ملازم ہو گیا اور میں نے ایک احمدی دوست مولوی محمد علی صاحب وٹرنری دفعدار کی تحریک پر مذہب کی طرف زیادہ توجہ دینی شروع کی اور تبلیغ میں بھی سرگرمی دکھلائی جو خدا کے فضل اور احسان سے بہت بار آور ثابت ہوئی اور میری تحریک پر مندرجہ ذیل احباب نے بیعت کی۔ان کے ساتھ میں نے بھی دوبارہ بیعت کی : نمبر (۱) ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب VAS امرتسر۔نمبر (۲) ماسٹر عبد العزیز صاحب نوشہرہ، سیالکوٹ۔(۳) برادرم عطاء اللہ خان صاحب دھرم کوٹ بگہ۔