تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 700 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 700

تاریخ احمدیت۔جلد 24 678 سال 1968ء صاحب کی خوش الحانی اور آواز کی بلندی دل پر خاص اثر کرتی تھی۔آپ بیان کرتے تھے کہ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ پر مجھے اور بھائی محمد یوسف صاحب کو اور چھوٹے بھائی ( حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب) کو قادیان آنے کا موقعہ ملا۔ہم پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ ہم گھر سے اس گاڑی سے بارہ گھنٹے پہلے روانہ ہو گئے جس گاڑی پر پٹیالہ سے را جپورہ اور راجپورہ سے امرتسر تک جایا کرتے تھے۔اس لئے بفضلہ تعالیٰ ہم اس حادثہ سے بچ گئے جو کہ دوٹرینوں کے تصادم سے لا ہو وال اسٹیشن کے قریب ہوا تھا۔اس جلسہ سالانہ میں جمعہ کی نماز کیلئے مسجد اقصیٰ میں پچھلی صف میں (حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی ) قبر کے قریب ہم تینوں بھائی بیٹھے تھے کہ اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے سامنے اگلی صف میں آکر بیٹھ گئے۔میری دلی خواہش تھی کہ حضور کو قریب سے دیکھ لوں۔سو یہ خواہش پوری ہوگئی۔فالحمد للہ۔جس وقت حضور سامنے بیٹھے تھے تو مہمان دوستوں میں سے بعض نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ حضور ہم سات احمدی بھائیوں پر خاص فضل ہوا ہے اور وہ اس طرح سے کہ ہم ساتوں احمدی بھائی دہلی کی طرف سے امرتسر کی طرف قادیان کیلئے سفر کر رہے تھے۔جب ہماری گاڑی لدھیانہ پہنچی تو ہم اس خیال سے وہاں اتر گئے کہ لدھیانہ کے احباب کے ساتھ مل کر قادیان چلیں گے۔جب ہماری چھوڑی ہوئی گاڑی آگے گئی تو لا ہو وال اسٹیشن کے قریب اس کا تصادم ہو گیا اور سینکڑوں جانیں ضائع ہو گئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی پگڑی کا سر ادہنِ مبارک کے آگے کرلیا اور فرمایا 46 اللہ تعالیٰ نے ہمارے دوستوں کی حفاظت فرمائی۔آپ بیان کرتے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے عمر بھر تبلیغ کا موقعہ ملتا رہا۔چھ ماہ تک آنریری طور پر ملکانوں میں تبلیغ کی توفیق ملی۔میرے ذریعہ سے بہت سے لوگ داخلِ احمد بیت ہوئے۔صرف علاقہ ملکانہ میں باون مرد وزن میرے ذریعہ سے احمدی ہوئے۔ملکانوں میں تین لوگوں کو میں نے قرآن مجید بھی پڑھایا۔جب میرے ذریعہ احمدی ہونے والے قادیان آتے تو مجھے کندھوں پر اٹھا لیتے۔باوجود یکہ میری تعلیم بہت تھوڑی تھی مگر احمدیت کے طفیل مجھے باعزت روزگار نصیب ہوا۔ریاست پٹیالہ کے ناظم صاحب مجھ سے بہت محبت رکھتے تھے اور مجھ پر بہت اعتبار کرتے تھے۔اس لئے میری ملازمت قائم رہی اور آمدنی بھی گزارہ کے لائق ہوتی رہی۔حضرت حافظ صاحب قرآن کریم بہت خوش الحانی اور صحت کے ساتھ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔