تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 673
تاریخ احمدیت۔جلد 24 651 سال 1968ء اعلیٰ سے رخصت طلب کی تو اس نے رخصت دینے سے انکار کر دیا۔جب جنازہ قادیان روانہ ہوا تو دوبارہ آپ نے افسر اعلیٰ سے رخصت طلب کی اور کہا میرے آقا فوت ہو گئے ہیں، میں ضرور قادیان جاؤں گا۔مگر افسر نہ مانا۔اس پر آپ نے اسی وقت ملازمت سے استعفیٰ دیدیا اور فرمایا کہ مجھے ایسی نوکری کی ضرورت نہیں۔اس کے بعد آپ قادیان چلے گئے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور حضرت خلیفتہ المسح الاول کے ہاتھ پر بیعت کی۔پھر دوبارہ لاہور کا رخ کیا اور شاہدرہ میں طبیہ کالج میں داخلہ لے لیا۔کچھ عرصہ یہاں پر تعلیم حاصل کرتے رہے۔پھر قادیان میں مستقل رہائش اختیار کر لی اور دینی علوم سے فیضیاب ہوتے رہے اور طب کا کچھ علم حضرت حاجی الحرمین خلیفہ المسیح الاول سے بھی حاصل کیا۔۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ ع الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے انتخاب خلافت میں حصہ لیا اور بیعت کی۔آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ایماء پر پہلا تبلیغی سفر امکپور (موجودہ نام فیصل آباد) کا کیا۔یہاں پر کافی عرصہ قیام کیا۔آپ نے چنیوٹ کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی تبلیغی فرائض انجام دیئے۔پھر آپ کو دھرم کوٹ بگہ اور زیرہ میں تبلیغی فرائض انجام دینے کا موقع ملا۔اس کے بعد آپ کو مستقل طور پر آنریری مبلغ بناکر کشمیر بھیج دیا گیا۔وہاں پر چودہ سال کا طویل عرصہ کام کیا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے متعلق ایک کتاب ہمسیح الموعود والامام المهدی المسعودعلیہ السلام نامی تحریر فرمائی یہ کتاب ۱۹۳۲ء میں تحریر کی اور چار ہزار کی تعداد میں شائع ہوئی۔اس کے بعد قادیان تشریف لے آئے۔وہاں پر حکمت کی دکان رہی۔۱۹۴۷ء کے لرزہ خیز انقلاب کے بعد قادیان سے ہجرت کر کے بیگم کوٹ شاہدرہ میں رہائش اختیار کر لی۔یہاں آپ جماعت کے صدر منتخب ہوئے۔آپ کے بیٹے مکرم ضیاء الدین حمید صاحب نے اپنی کتاب ”سعادتیں ، یادوں کے آئینہ میں میں آپ کے متعلق بعض دیگر تفصیلات اور ایمان افروز واقعات بھی تحریر فرمائے ہیں۔تصانیف: مسیح الموعود والامام المهدى المسعو دحصہ اول ( تاریخ اشاعت ۷ اربیع الاول ۱۳۴۱ھ مطابق ۲ دسمبر ۱۹۲، مطبع وزیر ہند پر لیں امرتسر۔ناشر سیکرٹری انجمن احمد یہ موضع ناسنور ڈاکخانہ شوپیاں کشمیر)۔۲۔سرمہ چشم بے نمازاں۔۳۔مباحثہ امرتسر ۱۸۹۳ء۔