تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 658
تاریخ احمدیت۔جلد 24 636 سال 1968ء و, اے ہمارے رب! اپنے قہر کی گرفت سے ہمیں محفوظ رکھیو۔تیرے غصہ کی ہمیں برداشت نہیں۔تیری گرفت شدید ہے۔کچل کر رکھ دیتی اور ہلاک کر دیتی ہے۔ہم عاصی ہیں ہمیں معاف فرما۔ہم سے گناہ پر گناہ ہوا، کوتاہی پر کوتاہی۔اپنی رحمت کی وسیع چادر میں ہماری سب کمزوریوں کو چھپالے۔ہمیں اپنی رحمتوں سے ہمیشہ نواز تارہ تو ہمارا محبوب آقا ہے، تیرے دامن کو ہم نے پکڑا۔دامن جھٹک کے ہمیں پرے نہ پھینک دینا۔ہماری پکار کوسن اور اسلام کے ناشکرے منکروں کے خلاف ہماری مدد کو آ اور ان کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ۔اے ہمارے رب! تیری راہ میں جو بھی سختیاں اور آزمائشیں ہم پر آئیں ان کے برداشت کی قوت اور طاقت ہمیں بخش اور سختیوں اور آزمائشوں کے میدان میں ہمیں ثبات قدم عطا کر ، ہمارے پاؤں میں لغزش نہ آئے اور اپنے اور اسلام کے دشمن کے خلاف ہماری مدد کر اور ہماری کامیابیوں کے سامان تو خود اپنے فضل سے پیدا کر دے“۔جب حضور نے یہ دعا پڑھی تو ہزاروں ہزار احباب پر جو پہلے ہی سراپا عجز و نیاز اور مجسم دعا بنے ہوئے تھے ایسا وارنگی کا عالم طاری ہوا کہ ان میں سے بعض کی چھینیں نکل گئیں۔جب حضور یہ دعائیں پڑھ رہے تھے تو جلسہ گاہ پر ایک عجیب کیفیت چھائی ہوئی تھی۔کوئی آنکھ نہ تھی جو آنسو بہا رہی ہو اور کوئی دل نہ تھا جو پکھل کر آستانہ الوہیت پر نہ بہہ رہا ہو۔اس وقت جبکہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ برحق اور ہزارہا مومنوں کے دلوں کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی یہ پُر سوز دعائیں بلند ہو ہو کر عرش معلی سے ٹکرا رہی تھیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں بارش کے قطروں کی طرح سامعین پر برس رہی ہیں اور روحوں کو ایک نئی بالیدگی نصیب ہو رہی ہے۔دل سے نکلی ہوئی ان دعاؤں کے اختتام پر حضور نے اجتماعی دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔ساتھ ہی ہزاروں ہزار ہاتھ دعا کیلئے اٹھ گئے۔چنانچہ کمال سکوت کے عالم میں پر سوز اجتماعی دعا ہوئی اور اس طرح ہمارے ےے دیں للہی جلسہ سالانہ کا افتتاح عاجزانہ دعاؤں کے درمیان عمل میں آیا۔یہ ایک عجیب پر کیف منظر تھا کہ خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ برحق ہزاروں ہزار احباب کے درمیان کھڑا انہیں اثر و جذب میں ڈوبی ہوئی دعاؤں سے نواز رہا تھا اور احباب عرش کی طرف بلند ہونے والی ان عظیم الشان دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کو اپنے گرد و پیش بارش کی