تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 657 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 657

تاریخ احمدیت۔جلد 24 635 سال 1968ء کہ بعض ایسے ساتھی بھی ہوں جو مجھ سے بھی کم نیند لیتے ہوں کیونکہ وہ میرا بڑا خیال رکھتے تھے اور میں کئی دفعہ اس کے متعلق سوچ کر شرمندہ بھی ہوتا تھا۔اب اگر یہ کہا جائے کہ پانچ گھنٹہ کی ہماری ڈیوٹی لگا دو اس کے بعد ہم آزاد ہوں گے یہ ذہنیت قابل برداشت نہیں۔ہمارے رضا کار چوبیس گھنٹہ ڈیوٹی پر ہیں ہاں جو جائز ضرورتیں ہیں وہ پوری ہونی چاہئیں مثلاً انسان نے غسل خانہ میں بھی جانا ہے۔اس نے روٹی بھی کھانی ہے۔اگر ایک نوجوان خدمت کے جذ بہ اور شوق کے ساتھ گھر سے آیا ہے اور گھر میں اسے ایک گھنٹہ کا کام ہے تو اس کو ایک گھنٹہ کی اجازت ملنی چاہیئے۔گھر جا کر بھی تو اس نے مہمانوں کا کام ہی کرنا ہے۔لیکن ڈیوٹیاں وغیرہ جو لگائی جاتی ہیں یہ سرے سے ختم ہونی چاہئیں پتہ نہیں یہ برائی ہمارے اندر کب سے پیدا ہوگئی ہے۔ہمارے آقا کے ان مہمانوں کے حقوق اگر ادا کرنے ہوں تو ہمارے رضا کاروں کو چاہیئے کہ وہ بر وقت حاضر ہوں اور سارا وقت حاضر ر ہیں۔،، خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کا چوتھا جلسہ سالانہ خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کا چوتھا جلسہ سالانہ ربوہ میں ۲۶ تا ۲۸ دسمبر ۱۹۶۸ء میں انعقاد پذیر ہوا جس میں ایک لاکھ فرزندانِ احمدیت نے شرکت فرمائی۔اس جلسہ میں پاکستان کے علاوہ انگلستان ، ہالینڈ، سوئٹزر لینڈ، کینیا، تنزانیہ، گھانا، سیرالیون، دبئی ، کویت، بھارت اور دیگر کئی ممالک سے احمدی احباب شرکت کے لیے تشریف لائے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس نہایت مقدس و مبارک اجتماع سے تین بار خطاب فرمایا۔اس کے علاوہ مستورات کی جلسہ گاہ میں بھی تشریف لے جا کر ایک روح پرور خطاب ارشاد فرمایا۔حضور کے بیان فرمودہ حقائق و معارف حاضرین کے لئے علم و عرفان میں اضافہ کا موجب بنے اور ان کے ایمان وایقان میں بے پناہ ترقی ہوئی۔حضور انور کا افتتاحی خطاب حضور نے اپنے افتتاحی خطاب میں بہت ہی دردمندانہ اور اثر انگیز الفاظ میں دعائیں پڑھ کر سنائیں۔جو روح قرآن اور عجز و انکسار کا بہترین امتزاج تھیں۔ان دعاؤں کے آخری حصہ میں دعا کرتے ہوئے فرمایا:۔