تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 653 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 653

تاریخ احمدیت۔جلد 24 631 سال 1968ء بات ہے ہمارے چھوٹے ماموں جان (حضرت میر محمد الحق صاحب) افسر جلسه سالا نہ ہوا کرتے تھے۔آپ ہماری تربیت کی خاطر ہمیں اس عمر میں اپنے ساتھ لگا لیتے تھے۔آپ ہر لحاظ سے ہمارا خیال بھی رکھتے تھے اور پورا وقت ہم سے کام بھی لیتے تھے چاہے وہ دفتر میں بٹھائے رکھنے کا ہو یا خطوط وغیرہ فائل کرنے کا ہو۔ان کے علاوہ دوسرے تمام کام جو اس عمر کے مطابق ہوں ہم سے لیتے تھے۔ایک دن آپ نے مجھے کہا ( رات کے کوئی نو دس بجے کا وقت ہوگا ) کہ مدرسہ احمدیہ میں جو مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں انہیں دیکھ کر آؤ کہ کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں۔آپ میں سے بہتوں کے ذہن میں مدرسہ احمدیہ کا نقشہ نہیں ہو گا۔مدرسہ احمدیہ میں دو صحن تھے۔ایک بڑا صحن تھا اس کے ارد گرد رہائشی کمرے تھے چند ایک کلاس روم بھی تھے لیکن زیادہ تر رہائشی کمرے تھے۔ایک چھوٹا صحن تھا جس کے اردگرد چھوٹے کمرے تھے اور وہاں کلاسیں ہوا کرتی تھیں۔جلسہ کے دنوں میں ان کمروں میں مہمان ٹھہرا کرتے تھے۔حضرت میر صاحب نے کہا کہ ان چھوٹے کمروں کا چکر لگا کر آؤ اور دیکھو کہ کسی مہمان کو تکلیف تو نہیں کسی کو کوئی ضرورت تو نہیں۔اس دن حضرت میر صاحب نے معاونین میں چائے تقسیم کروائی تھی۔جلسہ کے دنوں میں ایک یا دو دفعہ رات کے دس بجے کے قریب چائے تقسیم کی جاتی تھی۔اس چائے میں دودھ اور میٹھا سب کچھ ملا ہوا ہوتا تھا اور نیم کشمیری اور نیم پنجابی قسم کی چائے ہوتی تھی بہر حال اس دن وہ چائے تقسیم ہوئی تھی۔میں وہاں جا کر کمروں میں پھر رہا تھا۔دوستوں سے مل رہا تھا اور ان سے ان کے حالات دریافت کر رہا تھا۔ایک کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا میں اس میں داخل ہونے لگا تو میں نے دیکھا کہ ہمارا ایک رضا کار جو چھوٹی عمر کا تھا۔وہ آبخورے میں چائے لے کر باہر سے آیا۔کمرے میں ایک مہمان کو بخار چڑھ گیا تھا اس نے یہ سمجھا کہ یہ رضا کار میرے لئے گرم چائے اور دوائی وغیرہ لے کر آیا ہے مجھ سے چند سیکنڈ ہی قبل وہ دروازہ میں داخل ہوا تھا اُس مہمان نے غلط فہمی میں ( کیونکہ ہمارے احمدی مہمان بھی بڑی عزت والے ہوتے ہیں اس مہمان کو اسی شام کو بخار چڑھ گیا تھا اور بڑا تیز بخار تھا اس کو غلط نہی ہو گئی تھی ) اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور کہا