تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 651
تاریخ احمدیت۔جلد 24 629 سال 1968ء خدشہ بھی بدعت کے پیدا ہونے کا ہو جائے تو خلفائے کرام فوری طور پر اپنے قول وفعل سے اس کا سد باب کرنے کی کوشش فرماتے ہیں چنانچہ اس حقیقت کا ایک نمونہ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۸ء کو بھی نظر آیا جب ۲۹ رمضان (۱۳۸۸ھ ) کی تاریخ تھی اور اس مبارک مہینہ کا آخری جمعہ تھا۔اس روز نماز عصر کے بعد درس قرآن کی آخری اجتماعی دعا ہونے والی تھی مگر سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اعلان فرمایا:۔جس طرح رمضان کے آخری جمعہ (جس کو جمعتہ الوداع کہا جاتا ہے) کے ساتھ بہت سی بدعات لگ گئی ہیں۔اسی طرح یہ ہو سکتا ہے کہ درس القرآن کی جو آخری دعا ہے وہ بھی ایک بدعت نہ بن جائے لہذا اس سال اس رنگ کی دعا نہیں ہو گی بلکہ جب درس ختم ہو گا تو اس وقت دومنٹ کی دعا کر دیں۔دعا کے بغیر تو ہماری زندگی ہی نہیں اس لئے میرا یہ مطلب نہیں کہ ہم دعا کے بغیر بھی ایک سانس لے سکتے ہیں۔ہماری تو زندگی ہی دعا پر منحصر ہے لیکن دعا پر زندگی کا یہ انحصار تقاضا کرتا ہے کہ ہم ان چیزوں کو بدعت کا رنگ نہ دیدیں اور اس سے بچتے رہیں۔اس سال یہ بات نہیں ہوگی لیکن ایک اور رنگ میں دعا کی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔اسلام نے اجتماعی دعا کا بھی حکم دیا ہے اور انفرادی دعا کا بھی حکم دیا ہے اس لئے آج عصر اور مغرب کے درمیان یعنی روزہ کھولنے تک جس حد تک ممکن ہو سکے انفرادی دعاؤں میں لگے رہیں اور یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کے لئے اپنی رحمت کے سامان پیدا کرے اور زندگی اور بقا کے چشمہ سے جو دوری ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے جو تعلق وہ اللہ تعالیٰ سے پیدا کر سکتے ہیں وہ پیدا نہیں کر رہے۔اللہ تعالیٰ اس دوری کو قرب میں تبدیل کرنے کے سامان پیدا کر دے اور انسان اپنے خالق اور اپنے رب کو پہچاننے لگے اور وہ روحانی اور جسمانی خزائن جو اسلام کے ذریعہ انسانیت کو ملے ہیں ان روحانی اور جسمانی خزائن سے انسان فائدہ اٹھانے لگے اور ان کی قدر کو پہچاننے لگے اور جماعت کو اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے اور اپنی پناہ میں ان کو رکھے اور خود ان کی سپر ہو جائے اور دشمن کا ہر وارا اپنی قدرت پر ہے۔پس ہر احمدی جس تک میری یہ آواز پہنچے ہر مرد اور عورت ہر بڑا اور بچہ آج عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت جس حد تک ممکن ہو سکے تنہائی میں گزار دے اور