تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 640
تاریخ احمدیت۔جلد 24 618 سال 1968ء اقدس نے بھی تو ہومیو پیتھک دوا بھجوانی ہے اور یہاں کے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ دوا وہاں کے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ دوا سے بہتر ہو گی۔چنانچہ مکرمی ڈاکٹر صاحب نے جو خود بھی رائل ہومیو پیتھک ہاسپٹل میں کام کرتے ہیں اپنی ایک تجربہ کا رسپیشلسٹ لیڈی ڈاکٹر سے معاینہ کے لئے وقت مقرر کروا دیا چنانچہ عاجز ۱۳۰ نومبر ۱۹۶۷ء کو ان کے پاس گئی بعد معاینہ اور تمام رپورٹ سن کر وہ کہنے لگی مجھے افسوس ہے مسز حیدر ہمارے پاس تمہاری تکلیف کا کوئی علاج نہیں۔میری حیرت کی انتہا نہ رہی میں نے کہا ” عام طور پر یقین کیا جاتا ہے کہ ہومیو پیتھک بہت اعلیٰ درجہ کا علاج ہے اور اکثر لوگ ایلو پیتھی سے ناامید ہو کر اس طرف رجوع کرتے ہیں۔کہنے لگی کہ ہاں لیکن مجھے بے حد افسوس ہے کہ تمہاری بیماری کا میڈیکل علاج نہیں۔میں نے کہا کسی قیمت بھی علاج نہیں ہوسکتا؟ اس نے جواب دیا کہ ابھی سائنس اس درجہ ترقی پر نہیں پہنچ سکی کہ تمہاری بیماری کا علاج کیا جاسکے۔اس لئے تمہیں آئندہ معاینہ کی تاریخ دینا بھی بیکا ر ہے اس وقت ڈاکٹر کے پاس بیٹھے ہوئے میں نے خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر عہد کیا کہ اے میرے مولا آئندہ تیرے در پر آنے کے سوا اور حضرت اقدس کی خدمت میں بار بار دعا کی درخواست کرنے کے سوا کسی لائق ترین ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جاؤں گی۔چنانچہ یہ عہد کرنے کے بعد واپس چلی آئی اور بار بار حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے عریضے ارسال کرتی رہی اس یقین کے ساتھ کہ ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق تو میں لا علاج ہو چکی اب صرف اور صرف اپنے آقا کی پُرسوز دعاؤں کا ہی سہارا ہے قادر ہے وہ بارگہ ٹوٹا کام بناوے اس اثناء میں خدا تعالیٰ کا فضل ہو چکا تھا۔حیرت اور تعجب ہے کہ چار ماہ تک ڈاکٹر یہی کہتے رہے کہ شاید False alarm ہے یا مرض کا ایک حصہ ہے جو عود کر آیا ہے۔عاجزہ بار بار ٹیسٹ کے لئے ہسپتال جاتی رہی اب علاج نہ تھا صرف ٹیسٹ تھے جو چار ماہ تک جاری رہے ایک دن ڈاکٹر نے کہا کہ مسر حیدرتم خیال کرتی ہو کہ تم امید سے ہو؟ میں نے کہا میرے حالیہ ٹیسٹوں کا رزلٹ کیا کہتا ہے؟ کہنے لگی ہم ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔میں نے کہا تو میں کیسے کہہ سکتی ہوں۔پورے چار ماہ بعد اگلی معاینہ کی تاریخ پر ڈاکٹر نے کہا کہ ”مسز حید ر تم خوش ہو جاؤ کہ تم واقعی امید سے ہو اور یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے۔جب میں باہر آئی تو دیکھا میرے پیچھے وہ معمر نرس دوڑی چلی آ رہی ہے جو عرصہ چار پانچ سال سے میرے علاج معائنے کے دوران وہاں موجود ہوا کرتی تھی کہنے