تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 639
تاریخ احمدیت۔جلد 24 617 سال 1968ء حضور اقدس نے پیش کردہ خط پڑھنے کے بعد فرمایا کہ دعا کروں گا ڈاکٹروں سے کہہ دو کہ آپریشن کے متعلق ۶ ماہ بعد جواب دوں گی۔عاجزہ نے عرض کیا کہ حضور ڈاکٹر کہتے ہیں کہ آپریشن جلد ہونا چاہیئے۔آپ نے مکر را ز راہ شفقت فرمایا کہ بیٹی گھبراتی کیوں ہو دعا کروں گا انشاء اللہ خد افضل فرمائے گا۔میں نے سوچا کہ حضور اقدس کو میری بیماری کی نوعیت کا غالبا اندازہ نہیں ہوسکا میرے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا پرس تھا میں نے عرض کیا کہ حضور ڈاکٹر تو کہتے ہیں کہ تمہارے اندرونی اعضاء اس پرس کی طرح سیاہ ہو چکے ہیں تا ہم حضور نے نہایت تسلی آمیز اور پُر سکون لہجہ میں فرمایا۔ہاں ! ہاں ! میں دعا کروں گا بلکہ پاکستان جا کر ہومیو پیتھک ڈاکٹروں سے مشورہ کر کے دوائی بھی بھیجوں گا۔عاجزہ نے جرات سے کام لے کر عرض کیا حضور ابھی دعا فرما دیں اس پر حضور اقدس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔حضرت سنوری صاحب نے عرض کیا کہ حضور دو بیٹوں کے لئے دعا فرمائیں لیکن جڑواں نہ ہوں ایک ایک کر کے ہوں۔دعا شروع ہوئی تو میں نے حسب معمول سورۃ فاتحہ، درود شریف خاندان حضرت مسیح موعود ومصلح موعود کے لئے دعا کے بعد اپنے تمام خاندان بہن بھائیوں کے لئے دعا کی۔ذہن میں یہ خیال تھا کہ میرے لئے تو حضور خود ہی دعا فرمارہے ہیں میں انہیں بھی یاد کر لوں جو مجھے عزیز ہیں اور ساتھ یہ خوف بھی دامنگیر تھا کہ کہیں اپنے لئے دعا مانگنے سے پہلے حضور آمین نہ کہ دیں لیکن خدا تعالیٰ کی شان سب کے لئے دعا کرنے کے بعد مجھے اپنے لئے بھی دعا کرنے کا اتنا موقع مل گیا کہ مجھے تسلی ہو گئی۔اب حضور کے آمین کہنے کی آواز آئی یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام تھا کہ لمبی دعا کا موقع اس عاجزہ کو حضرت اقدس کی روانگی سے قبل میسر آ گیا۔فالحمد للہ۔خدا کی قسم وہ یقیناً قبولیت دعا کی گھڑیاں تھیں۔اس دعا کے بعد میں خاک سے اکسیر ہوگئی اور میرا دل نور ایمان سے بھر گیا اے میرے فلسفیو زور دعا دیکھو تو اب حضور واپس تشریف لے جاچکے تھے واپسی پر کام کی زیادتی کی بناء پر تین ماہ تک دوائی نہ آئی گو حضرت اقدس کو یہ عاجزہ برابر یا تھی۔وہ اس طرح کہ میری والدہ صاحبہ مع میری بیٹی کے حضور اقدس کی ملاقات کو حاضر ہوئیں۔حضرت اقدس نے از راہ شفقت حضرت بیگم صاحبہ کو جو سفر لندن میں ساتھ تھیں مخاطب ہو کر خود ہی فرمایا ” صادقہ کو دوائی بھجوانے کا کہا تھا بھجوا دیتے“۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور کو برابر میری فکر تھی۔عاجزہ ہومیو پیتھک کی دوا کی منتظر تھی۔مکرمی ڈاکٹر داؤ د احمد صاحب ایک دن کہنے لگے ہومیو پیتھک علاج بھی کروا دیکھیں۔میں نے کہا بات تو ٹھیک ہے حضرت