تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 626 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 626

تاریخ احمدیت۔جلد 24 604 سال 1968ء دد مجھے درحقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا۔اور میرے کلام کو سنا۔اور اس میں غور کی تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا اور میرے ساتھ ہو گئے۔میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کیلئے اپنی 123 ،، مرضی کو چھوڑتا ہے۔ازاں بعد حضور نے امام الزمان علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک الفاظ میں بشارت دی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر فیصلہ کیا ہے کہ تمام ادیان باطلہ کو مٹادیا جائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر دل میں پیدا کر دی جائے گی۔اور تمہاری زندگی کا مقصد تمہیں مل جائے گا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ:۔یقیناً سمجھو کہ نصرت کا وقت آ گیا اور یہ کا روبار انسان کی طرف سے نہیں اور نہ کسی انسانی منصوبے نے اس کی بنا ڈالی۔بلکہ یہ وہی صبح صادق ظہور پذیر ہو گئی ہے جس کی پاک نوشتوں میں پہلے سے خبر دی گئی تھی۔خدائے تعالیٰ نے بڑی ضرورت کے وقت تمہیں یاد کیا۔قریب تھا کہ تم کسی مہلک گڑھے میں جا پڑتے۔مگر اس کے با شفقت ہاتھ نے جلدی سے تمہیں اٹھا لیا سو شکر کرو اور خوشی سے اچھلو جو آج تمہاری تازگی کا دن آ گیا۔خدائے تعالیٰ اپنے دین کے باغ کو جس کی راستبازوں کے خونوں سے آبپاشی ہوئی تھی کبھی ضائع کرنا نہیں چاہتا۔وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاہب کی طرح اسلام بھی ایک پرانے قصوں کا ذخیرہ ہو۔پھر حضورانور نے یہ اقتباس بھی پڑھ کر سنایا سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کیلئے پھر اس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اسے چڑھنے سے رو کے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کیلئے ساری ذلتیں قبول نہ کرلیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اُسی