تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 46 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 46

تاریخ احمدیت۔جلد 24 46 سال 1967ء میں پاکستانی سفیر کے منصب کا چارج ۵ فروری ۶۴ء کو چھوڑ دیا۔عدالت میں دوبارہ تقریر کے دیگر فوائد کے علاوہ ایک نعمت عظمیٰ جو حاصل ہوئی وہ یہ تھی کہ مارچ ۱۹۶۷ء میں میری حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے کی دیرینہ آرزو محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی ذرہ نوازی سے بر آئی۔فالحمد لله حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه۔حسن اتفاق سے عزیز انور احمد اور عزیزہ امینہ کا ساتھ بھی میسر آگیا جن کی رفاقت کی وجہ سے مجھے بہت آرام ملا۔فجزاهم الله خيراً ہم کراچی سے امارچ ۱۹۶۷ء جمعہ کے دن فجر کے وقت روانہ ہوئے اور دس بجے قبل دو پہر بخیریت جدہ پہنچ گئے۔تشریفات ملکیہ کی طرف سے ہماری رہائش کا انتظام جدہ پیلس ہوٹل میں کیا گیا تھا جو امریکن طرز کا نہایت عمدہ ، آرام دہ ہوٹل ہے۔اسی دن ہم مکہ معظمہ میں حاضر ہو کر بفضل اللہ عمرہ سے مشرف ہوئے اور پھر جدہ واپس آگئے۔۱۱ کو جدہ میں ٹھہر کر تشریفات ملکیہ کے ساتھ پروگرام طے کیا۔پاکستانی سفارت خانے میں حاضر ہو کر سفیر کبیر اور ان کے افسران سے نیاز حاصل کیا۔ان میں سے دو صاحبان شیخ اعزاز نیاز صاحب افرحج اور سید اشتیاق حسین صاحب مدیر ثالث وزارت خارجه میں میرے رفیق کا ر رہ چکے تھے، اب بھی پہلے سی تواضع کے ساتھ پیش آئے اور انتظامات حج کے سلسلے میں ہمارے آرام کا موجب ہوئے۔فجزاهم الله خيراً۔۱۲ کو ہم جدہ سے کار پر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور ۱۵ تک وہاں قیام کیا۔ہماری جائے قیام مسجد نبوی سے چند قدم کے فاصلے پر تھی۔اس سہولت کی وجہ سے ہمیں بفضل اللہ سب اوقات میں مسجد میں حاضری اور نوافل کی ادائیگی کا موقع میسر آ جاتا تھا۔البتہ رسول اکرم ﷺ کے روضہ مبارک اور حضور کے منبر کے درمیان نوافل ادا کرنے والوں کا ہر وقت اس قدر ہجوم رہتا تھا کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ان ایام میں اس مبارک مقام پر نفل ادا کرنے اور دعا کرنے کی حسرت دل میں ہی رہ جائے گی۔لیکن اللہ تعالیٰ کے خاص کرم اور بندہ نوازی سے یہ موقع بھی بفراغت میسر آ گیا۔غیر معمولی ہجوم کی وجہ سے مسجد کی صفائی کے متعلق خاص انتظام کرنا پڑتا ہے اس لئے مسجد نصف شب سے لے کر تین گھنٹے کے لئے بند کر دی جاتی ہے۔اور اس دوران میں خدام مسجد کی صفائی مستعدی کے ساتھ مکمل کر لیتے ہیں۔۱۳ کی شام کو نمائندہ تشریفات نے ہمیں مطلع کیا کہ وہ نصف شب کے وقت تشریف لا کر ہمیں مسجد کے اندر لے چلیں گے اور جس قدر عرصہ ہم چاہیں نوافل اور دعا میں صرف کر سکیں گے۔چنانچہ دونوں رات ہمیں یہ موقع نصیب ہوتا رہا۔فالحمد للہ۔۱۵ کو مدینہ منورہ سے جدہ واپسی ہوئی۔۱۶ کو ہم پھر مکہ معظمہ حاضر ہوئے اور عمرہ اور مناسک ادا کئے۔۷ا کو