تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 613
تاریخ احمدیت۔جلد 24 591 سال 1968ء ان کو بیعت کی توفیق عطا فر مائے گا۔باہر کی جماعتوں کے دوروں کے بعد جب میں جا کر تہ واپس آیا تو اگلے دن رات کے کھانے کی دعوت مرتو لو صاحب کے ہاں تھی۔وہ صبح مجھے ملنے آئے اور آتے ہی کہا کہ میری بیوی نے از خود بیعت کی خواہش کی ہے اس شرط پر کہ آپ آج شام جب کھانے پر آئیں گے تو وہاں ان کی اور بچوں کی بیعت لے لیں۔مرتو لو صاحب کے چہرہ پر اس قدر خوشی اور طمانیت کے آثار تھے کہ ان کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔مکرم صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہوکر وہ ہزاروں ہزار انعام اور افضال جو ہر احمدی اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتا ہے ان میں سے ایک بڑی نعمت وہ نعمت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِةٍ اِخْوَانًا کے الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔یہدا خوت و محبت اللہ تعالیٰ کے خاص انعاموں میں سے ایک انعام ہے اور یہ وہ چیز ہے جو غیروں پر بھی بلکہ شدید معاندین پر بھی اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔اس ضمن میں ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔بوگور کی جماعت میں ایک نوجوان نے چند سال قبل بیعت کی تھی۔یہ نہایت مخلص اور فدائی نوجوان ہے۔بہت ہی چھوٹی عمر میں اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ سعادت نصیب کی۔اس نے اپنے ایک چھوٹے بھائی کو بھی جو ابھی میڈیکل کالج کی دوسری کلاس میں ہے احمدی کر لیا ہے اور یہ نوجوان بھی بہت مخلص ہے لیکن ان کے والدین شدید معاند ہیں۔مجھے اس امر کا علم بعد میں ہوا۔یہ نو جوان مجھے جا کر نہ میں ملے اور کہا کہ آپ جب بو گور آئیں گے تو چند منٹ کے لئے ہمارے گھر بھی ضرور آئیں۔میں نے ان سے وعدہ کر لیا۔گو مجھے اس وقت ان تفاصیل کا علم نہ تھا جو میں بیان کر رہا ہوں جب میں ان کے گھر پہنچا تو ملاقات کے کمرہ میں ان کے والد اور والدہ اور بہن بھی موجود تھے۔میرے ساتھ ہی کرسی پر ان کے والد بیٹھ گئے۔میں نے ان سے کہا مجھے آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی ہے کیونکہ آپ کے دو بچے میرے احمدی بھائی ہیں اور طبعا مجھے ان سے محبت ہے تو وہ فوراً کہنے لگے کہ مجھے تو بڑی تکلیف ہے کہ میرے یہ بچے ضائع ہو گئے۔اتنے میں یہ نوجوان کھڑا ہوا اور مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں چند الفاظ میں ایڈریس دینا چاہتا ہوں۔یہ انگریزی زبان میں لکھا ہوا تھا اور اس کا مضمون یہ تھا کہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے احمدیت کی سعادت نصیب ہوئی ہے لیکن میرے والدین اب تک