تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 44 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 44

تاریخ احمدیت۔جلد 24 44 سال 1967ء جانفشانی اور قربانی کی ضرورت ہے۔اسلام کی زندگی کے لئے اپنے نفسوں پر موت وارد کرنے کی ضرورت ہے اسلئے اپنے اندر ایک نیک تغیر پیدا کرو، ایک پاک تبدیلی۔اس طرح کہ تم اپنے اعمال اور کردار، اخلاق اور جذبہ فدائیت، للہیت میں دنیا بھر میں ممیز و ممتاز ہو جاؤ اور اس سلسلہ میں داخل ہو کر تمہارا وجود الگ ہو اور تم بالکل ایک نئی زندگی بسر کرنے والے انسان بن جاؤ۔جو کچھ تم پہلے تھے وہ نہ رہو۔اور اسلام کی فتح کا دن قریب تر لانے کے لئے ہر سختی برداشت کرنے اور ہر قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔بظاہر تم خدا کے لئے ذلت برداشت کر رہے ہوگے، ایک موت قبول کر رہے ہو گے مگر یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کی قائم کردہ جماعت ہو جسے اُس نے اسلام کو پھر سے زندہ کرنے کے لئے قائم کیا ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔وو یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جوز مین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھو لے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔166 یہ بات بھی یا درکھو کہ تم سب محض خدا کے فضل سے احمدیت اور اسلام میں داخل ہو کر ایک ہاتھ پر جمع ہو گئے ہو یہ محض خدا تعالیٰ کا احسان ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اسے نعمت قرار دیتا ہے۔جبکہ فرماتا ہے:۔" فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةٍ اِخْوَانًا» (آل عمران :۱۰۴) پس اس نعمت کی قدر کرو ، باہم پیار اور محبت سے رہو اور اطاعت کا ہمیشہ اعلیٰ نمونہ دکھاؤ۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور کھتے ہوا اپنے اندر صحابہ " کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو، باہم محبت اور اخوت ہو تو ย ویسی ہو، غرض ہر رنگ میں ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کر و جو صحابہ کی تھی۔38 66 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے باہم اخوت و محبت اور اطاعت کا جو اعلیٰ نمونہ