تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 586
تاریخ احمدیت۔جلد 24 564 سال 1968ء ایجادات و انکشافات کو دین اسلام کی تجدید کی نشانی قرار دیتے ہیں۔اس بات کو قبول کر لینا جماعت کی وحدت و تنظیم کا باعث بنا۔جماعت نے افراد کی اور افراد نے جماعت کی امداد و معاونت کی جس کی وجہ سے جماعت نے پاکیزگی کا بلند معیار قائم کیا اور دیگر امور سرانجام دیئے ہیں۔مستعدی اور جوش عمل کا نمونہ دکھایا“۔86 مسجد اقصیٰ کی تاسیس کی ایک اور مبارک تقریب اکتوبر ۱۹۶۶ء میں جب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہا نے مسجد اقصیٰ ربوہ کی بنیاد میں اینٹیں نصب فرمائی تھیں تو اس وقت خواتین کی نمائندگی نہ ہو سکی تھی۔اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض بزرگ خواتین کی خدمت میں درخواست کی گئی تھی کہ احمدی خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ بھی زیر تعمیر مسجد کی بنیاد میں اپنے مبارک ہاتھوں سے اینٹیں نصب فرما کر اس مسجد کے ہر لحاظ سے بابرکت ہونے کے لئے دعا کریں جسے انہوں نے از راہ شفقت قبول فرمالیا چنانچہ ۱۹ جولائی ۱۹۶۸ء بروز جمعتہ المبارک پونے سات بجے شام حضرت سیدہ نواب مبارکه بیگم صاحبہ، حضرت سیدہ ام متین مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ اور حضرت منصورہ بیگم صاحبہ نے زیر تعمیر مسجد میں تشریف لے جا کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ہوئے اسی ترتیب سے باری باری بنیاد کے اُس حصہ میں جہاں حضور نے دو سال قبل بنیا د رکھی تھی اینٹیں نصب فرما ئیں۔یہ حصہ کرسی (plinth) تک ہی تعمیر ہوا تھا۔اس موقع پر حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ ربوہ میں موجود نہ ہونے اور حضرت سیدہ ام مظفر احمد صاحبہ اپنی علالت کے باعث تشریف نہیں لاسکیں تاہم وہ اینٹ جس پر حضرت سیدہ ام مظفر احمد صاحبہ نے دعا کی ہوئی تھی حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے بیٹے شاہد احمد خان پاشا صاحب نے نصب کی۔سورہ احزاب کی چند آیات کی پُر معارف تفسیر 87 سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ۲۲، ۲۳، ۲۴ جولائی ۱۹۶۸ء کو تعلیم القرآن کلاس خطاب کرتے ہوئے سورہ احزاب کی آیات ۱۸ تا ۲۰ و ۶۱ ۶۲ کی پُر معارف تفسیر بیان فرمائی۔ان قرآنی آیات کے نہایت لطیف مطالب اور اسرار پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور نے متعدد اہم نکات بیان فرمائے مثلاً :۔