تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 580
تاریخ احمدیت۔جلد 24 558 سال 1968ء فروتنی کی روح کے منافی ہیں ہم محض فصاحت سے متاثر نہیں ہو سکتے ہم ان کے اور ان کے اٹھارہ ہمراہیوں کے معجزات کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں۔اگر وہ فی الحقیقت ایسی کرامات دکھا سکتے ہیں جن کا وہ دعوی کرتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں کینیا میں آکر نیروبی کی دیواروں کو اپنے اشتہاروں سے سیاہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ہم خود چل کر امریکہ جاتے اور ان سے درخواست کرتے کہ وہ ہم پر رحم کریں اور ہمیں برکت دیں“۔کینیا کے علاوہ تنزانیہ اور یوگنڈا کے اخبارات نے بھی ہماری دعوت مقابلہ کو نمایاں جگہ دی ہے۔ایسٹ افریقن سٹینڈرڈ نے اپنے ایک اداریہ میں جماعت احمدیہ کی دعوت کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:۔کیفیا میں صرف عیسائی مذہب ہی نہیں ہے بلکہ اور بھی مذاہب پائے جاتے ہیں بالخصوص اسلام۔مسٹر رابرٹ کو اس مذہبی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا اگر وہ اپنے یہاں آنے سے قبل یہاں کی عیسائی تنظیموں کے ساتھ رابطہ قائم کرتے اور ان کے صلاح و مشورہ سے ایسے طریق پر منادی کرتے جس سے دوسرے مذاہب سے ٹکراؤ نہ ہوتا“۔بعض اخباروں میں گاہے گاہے بیماروں کی شفایابی کا ذکر بھی آجا تا تھا لیکن چونکہ ان کے پتے معلوم نہ ہوتے تھے اس لئے تحقیق مشکل تھی۔ایک دن ایک اخبار نے ایک اسمعیلی نوجوان مسٹر عظیم قاسم کے متعلق لکھا کہ وہ آٹھ ماہ سے ایک ہسپتال میں صاحب فراش تھے اور چل پھر نہیں سکتے تھے۔ان کو ایمبولینس میں پنڈال میں لے جایا گیا اور مسٹر رابرٹس کے ہاتھ رکھنے سے وہ تندرست ہو گئے اور چلنے پھرنے لگ گئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ عیسائی ہو جائیں گے۔یہ خبر پڑھتے ہی محترم مولا نا عبدالکریم شر ما صاحب اور مکرم مولوی محمد عیسی صاحب مبلغ اسلام نیروبی مشرقی افریقہ تحقیق کے لئے ہسپتال میں گئے۔وہاں جا کر دیکھا کہ مریض کو خون دیا جا رہا ہے اس کی والدہ نے بتایا کہ ہم پادری کے پاس گئے ضرور تھے لیکن میرے بیٹے کو کچھ فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس کی حالت کل سے زیادہ خراب ہے اس نے کہا میرے لڑکے نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ وہ عیسائی ہو جائے گا۔مکرم شر ما صاحب نے ہسپتال کے ڈاکٹروں کو اخبار دکھایا اور کہا کہ وہ اس خبر کی تردید کریں۔چنانچہ ڈاکٹروں نے اسی وقت اخبار کوٹیلیفون کیا اور بتایا کہ مریض کا حال تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہے اور یہ خبر جو شائع ہوئی ہے غلط ہے اور سراسر دھوکہ ہے۔