تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 579 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 579

تاریخ احمدیت۔جلد 24 557 سال 1968ء اخبار سنڈے پوسٹ“ نے اپنے ۲۱ جولائی ۱۹۶۸ء کے اداریہ میں لکھا: ”دنیا میں کسی خطہ میں امریکہ سے زیادہ مذہب کو جلب زر کا ذریعہ نہیں بنایا گیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ امریکی عوام دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ گھٹیا قسم کی عبادت کرتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ گرجوں میں جانے والوں کی معقول تعداد ایسی ہے جو مذہب کے متعلق سچے جذبات رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بلی گراہم“ اور ”ایسے سیمپل میک پرسن“ جیسے کئی مسیحی مناد اور ریفارمرامریکہ میں ایسے پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے لوگوں کو اپنے پیچھے لگا کر بڑی دولت کمائی ہے۔اب اورل را برٹس ان کی ہمسری کا دعویٰ لے کر اٹھے ہیں۔بدقسمتی کی بات ہے کہ انہوں نے اس وقت کینیا کو اپنا اکھاڑہ بنایا ہوا ہے۔مسٹر اورل رابرٹس کی مہم کی خصوصیت ان کے بلند بانگ دعاوی اور بے پناہ پراپیگنڈہ ہے جو ان سے پہلے امریکی منادوں کو میسر نہ تھا۔ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی اس مہم کے پیچھے جلب زر کا جذبہ کارفرما نظر آتا ہے۔کا موکونجی کے میدان میں اگر چہ معجزات کا فقدان تھا لیکن چندہ کے تھیلوں کی فراوانی تھی۔یہ امر پبلک کی دلچسپی کا باعث ہوگا اگر وہ ہمیں یہ بتائیں کہ انہیں کس قدر آمد ہوئی ہے۔پھر اس اخبار نے ایک دوسری اشاعت میں مسٹر رابرٹس کی مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”ان کی یہاں آمد ہمارے لئے کوئی عجوبہ نہیں ہے۔اس سے پہلے بھی کئی آئے ، اس قسم کے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں وہ ہم سے نجات اور ہماری روحانی ترقی اور منجزات دکھانے کے وعدے کرتے ہوئے آتے ہیں اور ہمیں مایوسی میں دھکیل کر چلے جاتے ہیں۔اور ل را برٹس کہتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے سے نفرت چھوڑ دینی چاہئے اور بغیر رنگ ونسل کا امتیاز کئے باہمی محبت اور دوستی کے تعلقات کو استوار کرنا چاہیئے۔ان کا یہ وعظ خوب ہے لیکن مسٹر رابرٹس ہمیں معاف کریں اگر ہمارے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ یہ شخص یہاں کینیا میں کیا کرنے آیا ہے جبکہ اس کے اپنے ملک میں اور اس کی اپنی قائم کی ہوئی یو نیورسٹی کے دروازوں پر رنگ ونسل کے امتیاز کی وجہ سے تلخیاں موجود ہیں۔مسٹر رابرٹس خود اپنے لوگوں میں معجزات کیوں نہیں دکھاتے اور کیوں ان کے دلوں میں تبدیلیاں پیدا نہیں کرتے۔دنیا کے تمام بڑے مذاہب فروتنی کی تلقین کرتے ہیں۔مسیح خود مجسم فروتنی تھے۔پادریوں اور عیسائی منادوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کے لئے فروتنی کا نمونہ بنیں لیکن مسٹر را برٹش کا طریق اس کے برعکس ہے۔ان کی ہیجان خیز پہلیٹی اور مجزات دکھانے کے بلند بانگ دعاوی