تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 562
تاریخ احمدیت۔جلد 24 540 سال 1968ء مطبوعہ نسخہ قرآن پاک اور احمد یہ مشن تبلیغ القرآن کی بصیرت افروز متر جمہ مساعی اور اقوام عالم میں تعلیمات قرآنی کی روشناسی کے مختلف اسلوب ونسخہ جات، بعض قلمی نوادرات قرآنی، کتبات، طغرے، حرم نبوی و کعبتہ اللہ کے عکس منور بھی اس طرح پیش کئے گئے تھے کہ ۱۴ سو برس قبل نزولِ قرآن کی جلالت و عظمت کا منظر آنکھوں میں پھر جاتا تھا“۔۲۔روزنامہ مشرق کراچی اپنی ۱۷ جون ۱۹۶۸ء کی اشاعت میں رقمطراز ہے:۔پاکستان کے ممتاز دانشور جناب ممتاز حسن نے کہا ہے کہ قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں زیادہ سے زیادہ ترجمے کئے جائیں تا کہ بیرونی دنیا کے لوگ قرآن حکیم سے استفادہ کریں اور اسلام صحیح صورت میں ان تک پہنچ سکے۔انہوں نے کہا اس طرح بین الاقوامی سطح پر قرآن کی تفہیم کی راہ ہموار ہو جائے گی۔وہ آج شام چودہ سو سالہ جشنِ نزول قرآن کریم کے سلسلے میں احمد یہ دارالمطالعہ بندر روڈ پر تراجم قرآن کریم کی نمائش کا افتتاح کر رہے تھے۔جناب ممتاز حسن نے کہا اُن تراجم کی نمائش بھی ضروری ہے جو غیر مذاہب کے عالموں نے کئے ہیں۔تا کہ صحیح تراجم کے تقابلی مطالعہ کے بعد ان غلطیوں کی نشاندہی کی جاسکے جن کی وجہ سے اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔قبل ازیں تراجم قرآن کی نمائش کرنے والی تنظیمی کمیٹی کے چیئر مین جناب احمد مختار نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ اس نمائش کا مقصد لوگوں کو قرآن کی عظمت صلى الله سے آگاہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کا یہ آخری پیغام جو نبی آخر الزمان ﷺ کے توسط سے پہنچا، نسلِ انسانی کی تمام روحانی بیماریوں کا علاج اور تزکیہ و تصفیہ نفس اور اخلاق فاضلہ کے حقائق کا سچا بیان ہے۔۔روز نامہ ”جنگ“ کراچی نے اپنی ۷ اجون کی اشاعت میں فوٹو کے ساتھ نمائش کے افتتاح کی حسب ذیل خبر شائع کی:۔مسٹر ممتاز حسن نے کہا کہ قرآن پاک صداقت اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسے صحیح متن اور بلا کم و کاست ترجمہ کے ساتھ ساری دنیا میں پہنچادیں۔وہ آج شام یہاں ۱۴ سو سالہ جشن نزول قرآن کے سلسلہ میں مقامی جماعت احمدیہ کے زیر اہتمام قرآن پاک کے ترجموں کی ایک نمائش کا افتتاح کر رہے تھے۔انہوں نے کہا قرآن پڑھی جانے والی کتاب کو کہتے ہیں اس لئے ہمیں چاہیئے کہ اسے پڑھیں۔اسے بالائے طاق رکھنا کلام پاک کے ساتھ سب سے بڑی