تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 38
تاریخ احمدیت۔جلد 24 38 سال 1967ء تشریف لے گئے آپ نے وہاں زیادہ عرصہ قیام نہ کیا۔بلکہ آپ جلد ہی غا نا اور نا یجیریا تشریف لے گئے۔۱۹۳۷ء میں وہاں جماعت احمدیہ کے باقاعدہ مشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور مولانا نذیر احمد علی صاحب مرحوم کو وہاں کا مشنری انچارج مقرر کیا گیا۔آپ نے وہاں ہی وفات پائی اور آپ وہیں دفن ہیں۔آپ کے بعد مکرم مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری وہاں تشریف لے گئے۔شروع شروع میں وہاں بڑی سخت مخالفت ہوئی لیکن ان مبلغین کرام نے سیرالیون کے ہر کونہ میں پیغام احمدیت پہنچایا اور یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اپنی زمین بعد میں احمدیت کے لئے زرخیز ثابت ہوئی۔ہم سب کو احمدیت پر فخر ہے۔ملک میں ہماری جماعت کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ملک کی حکومت بھی ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ملک کے ریڈیو اور پر لیس کو احمدیت کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے اور ہم بڑے فخر سے اس بات کا اعلان کر سکتے ہیں کہ اس وقت ملک میں ہمارے ۲۱ پرائمری سکول قائم ہیں۔تین سیکنڈری سکول جاری ہیں جن کے پورے اخراجات وہاں کی گورنمنٹ برداشت کر رہی ہے یہ سکول ملک کے رہنے والوں کو یہ دعوت دے رہے ہیں کہ جہاں آج احمدیت آپ کی روحانی ترقی کے سامان پیدا کر رہی ہے وہاں اس نے تمہاری دنیوی تعلیم اور ترقی کے لئے بھی بعض ادارے کھول رکھے ہیں۔تم آج دونوں قسم کی ترقی کے سامان ( دنیوی بھی اور دینی بھی ) جماعت احمدیہ کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہو۔آخر پر آپ نے کہا کہ ایک وقت تک پاکستان کا ملک ہمیں تبلیغ کرتا رہا ہے اور ہم اس کے ممنون ہیں لیکن آج مغربی افریقہ پاکستان کے رہنے والوں کو تبلیغ کر رہا ہے یعنی آج میں یہاں کھڑا ہو کر آپ کو تبلیغ کر رہا ہوں میں آپ سے پر زور درخواست کروں گا کہ آج آپ ایک عہد کریں کہ ہم میں سے ہر ایک سال میں کم سے کم ایک احمدی ضرور بنائے گا۔اگر آپ ایسا کریں تو آپ نمائندگان شوری کے ذریعہ ہی اگلے سال اس ماہ تک سات سو سے زیادہ افرا د احمدیت میں داخل ہو جائیں گے اور اگر جماعت کا ہر فرد اس تجویز پر عمل کرے تو اگلے سال اس ماہ تک والا کھ سے زیادہ افراد احمدیت میں داخل ہو جائیں گے اور اس تجویز پر ہر سال عمل کریں تو تھوڑے ہی عرصہ میں ہم ساری دنیا کو حلقہ بگوش احمدیت کر لیں گے۔اگر آپ ایسا کریں تو میرے نزدیک یہ اسلام اور احمدیت کی بڑی خدمت ہوگی۔33 166