تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 37
تاریخ احمدیت۔جلد 24 37 سال 1967ء کے اثر کے نیچے کوئی نیا آنے والا یا نئی پود غلط قسم کے خیالات اپنے دماغ میں پیدانہ کرے بلکہ یہ مذہب کا جزو ہے اور وہ یہ ہے کہ خلیفہ قائم مقام ہوتا ہے رسول کا اور رسول قائم مقام ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا۔اللہ تعالیٰ نے بعض احکام دے کر اس کے بعد رسول کو اختیار دیا ہے کہ وہ ان میں دوسروں سے مشورہ لے کر فیصلہ کرے۔پھر لوگوں کو اس بات کا پابند قرار دیا ہے کہ جو فیصلہ رسول کرے اسے بغیر چون و چرا کے تسلیم کریں۔اس پر اعتراض کر کے پیچھے ہٹنے کا کسی کو حق نہیں دیا۔اسی طرح خلیفہ کو حق دیا ہے کہ وہ مشورہ لے اور فیصلہ کرے۔دنیاوی مجالس مشاورت میں تو یہ ہوتا ہے کہ ان میں شامل ہونے والا ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ چاہے میری بات رد کر دو مگر سن لو۔لیکن خلافت میں کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں۔یہ خلیفہ کا ہی حق ہے کہ جو بات مشورہ کے قابل سمجھے اس کے متعلق مشورہ لے اور شوریٰ کو چاہیئے کہ اس کے متعلق رائے دے۔شوریٰ اس کے سوا اپنی ذات میں اور کوئی حق نہیں رکھتی کہ خلیفہ جس امر میں اس سے مشورہ لے اس میں وہ مشورہ دے۔32 66 امید ہے کہ یہ مسئلہ اب واضح ہو گیا ہوگا“۔مشاورت کے پانچویں اور آخری اجلاس کے دوران حضرت خلیفہ امسیح الثالث کے ارشاد مبارک پر مسٹرایم۔کے بونگے جنرل سیکرٹری جماعتہائے احمد یہ سیرالیون نے انگریزی زبان میں ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی۔جس میں کہا کہ میری زندگی کا یہ سب سے زیادہ خوش کن موقعہ ہے کہ میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے پہلو میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کرام اور جماعت کے معزز نمائندگان کے سامنے تقریر کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔آپ نے مجھے ربوہ کی گلیوں میں چلتا پھرتا ضرور دیکھا ہوگا۔لیکن ممکن ہے کہ آپ میں سے بعض کو یہ علم نہ ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں۔میں ملک سیرالیون کا ایک باشندہ ہوں۔جو یہاں سے قریباً پندرہ ہزار میل کے فاصلہ پر اور مغربی افریقہ کے ساحل پر واقع ہے۔اس کی آبادی دو ملین کے قریب ہے جن میں سے ۷۰ فیصد خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمان ہیں اور جماعت احمد یہ اس مسلمان آبادی کا ایک ممتاز حصہ ہے۔سیرالیون میں احمدیت کا پیغام ۱۹۲۱ء میں پہنچا جبکہ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر وہاں