تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 533
تاریخ احمدیت۔جلد 24 511 سال 1968ء دائرہ بہت وسیع ہو اس میں بعض اوقات عملی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ایسی ہر مشکل کو دور کرنے کے لئے دوست مشورہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔حضور کے اس ارشاد پر نمائندگان شوری نے جو مشورے دیئے ان میں سے حضور نے قرآن مجید پڑھانے کی ٹریننگ کے سلسلہ میں مرکز میں تجربہ ایک کلاس کے اجراء، مرکزی فضل عمر تعلیم القرآن کلاس، وقف بعد از ریٹائرمنٹ کے حسب نصاب اسباق، وقف عارضی کے تحت سات ہزار واقفین کی فراہمی ، وقف عارضی برائے خواتین نیز شوری کے موقع پر لنگر خانہ کے انتظام سے متعلق بعض اہم فیصلوں کا اعلان فرمایا۔اور اس ضمن میں امراء کرام، مربیان سلسلہ، کارکنان دفتر وقف عارضی اور افسر صاحب لنگر خانہ کوتفصیلی ہدایات سے نوازا۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے اپنے اختتامی روح پر ور خطاب میں فرمایا۔آپ وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے اپنے فضل سے مقام امین میں رکھا ہے۔اور آپ کو خلافت کی نعمت عطا کی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کو یاد کر کے اس کا شکریہ ادا کرتے رہیں اور یہ دعا کرتے رہیں کہ خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ جماعت احمدیہ میں خلافت تا قیامت قائم رہے۔اور جماعت اس ڈھال کے پیچھے رہ کر اور ابتلاؤں اور امتحانوں میں سے کامیابی کے ساتھ گذر کردن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی چلی جائے۔حضور نے خلافت کی عظیم الشان برکات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریک جدید ایسی آسمانی تحریک کے ذریعہ جماعت احمدیہ کے دنیا بھر میں پھیل جانے کا ذکر فرمایا۔اور احباب جماعت کو نصیحت فرمائی کہ اب انہیں اپنے انداز فکر کو بدلنا چاہیئے۔اور بین الاقوامی نقطہ نگاہ سے سوچنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرنی چاہیئے۔حضور نے بیرونی ممالک اور بالخصوص مغربی ممالک میں اسلام کی روز افزوں ترقی اور وہاں کے نہایت مخلص اور فدائی احمدیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر جب وہاں غلبہ اسلام کے آثار اور نمایاں ہوں تو وہاں کے نو مسلم احمدیوں کو بعض ابتلاؤں میں سے گذرنا اور عیسائیوں کی طرف سے تعصب کے اظہار کے نتیجہ میں مشکل حالات سے دو چار ہونا پڑے وہاں کے نو مسلم احمدیوں کو چاہیئے کہ خدا تعالیٰ اس کے شر سے بچنے کی جو تدابیر سمجھائے ان کو اختیار کریں۔ان کے لئے ایک ضروری اور بنیادی تعلیم یہ ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، تمسخر کے مقابلہ میں تمسخر نہیں کرنا۔مظلومیت کے ساتھ زندگی بسر کرنی ہے۔اس وقت تمام دنیا کے احمدی میرے مخاطب ہیں میں ان پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جب تک آپ ظالم نہیں بنیں گے اور