تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 531
تاریخ احمدیت۔جلد 24 509 سال 1968ء ۶، ۷ را پریل کو شوری کے باقی تین اجلاسوں میں سب کمیٹیوں کی رپورٹیں زیر غور آئیں۔جن میں صدر انجمن احمدیہ، تحریک جدید اور وقف جدید کے سالانہ بجٹ ہائے آمد وخرچ بھی شامل تھے۔یہ تینوں بجٹ مجموعی طور پر ۵۴۸، ۸۹،۷۷ روپے کی آمد اور اتنی ہی رقم کے اخراجات پر مشتمل تھے (میزان بجٹ صدر انجمن احمدیه: ۴۳٬۸۳٬۴۴۸ میزان بحث وقف جدید : ۲٬۵۰٬۰۰۰ میزان بجٹ تحریک جدید : ۱۰۰ ۴۴۰ ۴۳ )۔سب کمیٹیوں اور ان کے بعد شوری نے تفصیلی بحث کے بعد ان ہرسہ بجٹوں کو منظور کئے جانے کی سفارش کی۔تینوں بجٹوں کی یہ مجموعی رقم سال گزشتہ کی مجموعی رقم سے بقد ر۲ لاکھ روپے زیادہ تھی۔شوری کے چار اجلاسوں میں حضور کی زیر ہدایت باری باری مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ سابق صوبہ پنجاب و بہاولپور، شیخ محمد احمد صاحب مظہر امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع لائکپور اور رانا محمد خاں صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع بہاولنگر کو صدارت کے فرائض کی سرانجام دہی میں حضور کا ہاتھ بٹانے کا خصوصی شرف حاصل ہوا۔شوری میں کرنل عطاء اللہ صاحب نے فضل عمر فاؤنڈیشن کی سالانہ رپورٹ اور مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل نائب ناظر اصلاح وارشاد نے وقف عارضی اور اس سے متعلق کاموں کی سال گزشتہ کی کارگذاری بھی نمائندگان کے سامنے رکھی۔چنانچہ نمائندگان نے اس بارہ میں پیش آمدہ بعض مشکلات کے حل سے متعلق مشورے پیش کئے۔اور اس بارہ میں حضور نے بعض نہایت اہم فیصلوں کا اعلان فرمایا۔اور جماعتوں کو اس بارہ میں ان کی نہایت اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے شوری کے ان چاروں اجلاسوں میں بنفس نفیس شرکت فرمائی۔اور ہمہ وقت تشریف فرمارہ کر صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔حضور نے نمائندگان کو افتتاحی اور اختتامی خطابات کے علاوہ مختلف اجلاسوں کے دوران بیسیوں مرتبہ نہایت بیش قیمت اور زریں ہدایات سے سرفراز فرمایا۔حضور نے واٹر سپلائی ربوہ کے چندہ کی فراہمی اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کرنے کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی۔حضور نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مجلس شوریٰ میں جماعتوں کے نمائندگان کی جو تعداد مقرر کی جاتی ہے ان سب کو شوری میں شریک ہونا چاہیئے۔حضور نے الفضل کی توسیع اشاعت کے لئے مختلف ذرائع سوچنے کے لئے مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ کی صدارت میں ایک سب کمیٹی مقرر فرمائی۔جسے ایک ماہ کے اندر