تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 514
تاریخ احمدیت۔جلد 24 492 سال 1968ء گے (۳) اور یہ انقلابات جماعت کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔پھر ۳۰ جنوری ۱۹۶۸ء کو حضور کو الہام ہوا:۔نشان فتح نمایاں۔۔۔۔برائے ماباشد حضور نے فرمایا کہ شاید یہ ماریشس کے متعلق ہو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں ۱۹۶۶ ء سے ہی بابرکت انقلابات آ رہے ہیں۔اس مختصر عرصہ میں خدام الاحمدیہ اور لجنہ کے شاندار کارناموں نے ملک میں احمدیت کی دھاک بٹھا دی ہے۔قرآن پاک کی نمائش جو فروری ۱۹۶۷ء میں ہوئی اس نے جماعت کے تبلیغی کاموں کا چرچا ہر گھر میں پھیلا دیا۔پھر جنوری ۱۹۶۸ء میں تعلیم الاسلام احمد یہ کالج کے افتتاح نے محکمہ تعلیم کو خوب متاثر کیا کہ انہوں نے پہلے دوماہ میں ہی ہمارے ساتھ وہ حسن سلوک کیا کہ دوسرے اداروں کے ساتھ سالوں میں بھی نہیں ہوتا۔اسی دوران عیسائیت کی کھلم کھلا شکست ہوئی۔ایک پادری جو دعا سے بیماروں کو اچھا کرنے کا مدعی تھا ہمارے چیلنج کی تاب نہ لا کر میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا۔۶۳ -۱۹۶۱ء میں دار السلام جیسی شاندار مسجد کی تکمیل کے بعد اب جماعت کو دو منزلہ مشن ہاؤس بنانے کی توفیق مل رہی ہے۔ملکی لحاظ سے بھی انقلابات آئے اور آرہے ہیں جن کو ملک کی تاریخ میں اور بعض کو دنیا کی تاریخ میں یکتا قرار دیا گیا ہے۔مثلاً مئی ۱۹۶۶ء میں مقامی سیاسی مشکلات کا حل یہاں ہی برطانیہ کے وزیر مسٹر John Stonehouse نے کیا اور بتایا کہ اس قسم کا تصفیہ دنیا میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ملک کی سیاسی گتھیوں کو اس ملک کی سرزمین میں ہی سلجھا دیا جائے۔پھر گزشتہ سال ۳۰ جولائی کو ماریشس کے تمام مذہبی لیڈروں نے ایک کانفرنس کو خطاب کیا اور دعاؤں میں شریک ہوئے۔ایسا نظارہ ماریشس میں پہلی بار دیکھنے میں آیا اور شاید دنیا میں بھی پہلی بار ایسا ہوا ہو۔پھر جنوری ۱۹۶۸ء میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان زبردست فسادات ہوئے جن کی نظیر یہاں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔۱۲ مارچ کو آزادی آئی حالانکہ ملک کے ب٪۴۴ ووٹروں نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔آزادی کے موقع پر ہر ملک میں علم آزادی رات کے بارہ بجے لہرایا جاتا رہا مگر یہاں یہ دن کے بارہ بجے لہرایا گیا۔پھر حکومت برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہونے والا یہ پہلا ملک ہے جہاں ملکہ کا کوئی نمائندہ نہ پہنچ سکا اور خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ حضور کی راہنمائی میں ہم نے جشنِ آزادی کا پروگرام جنوری ۱۹۶۸ء کے پہلے ہفتے میں اخباروں میں شائع کروا دیا تھا۔مخالف پارٹی کے لوگوں نے اس پر طعنے کسے مگر جنوری