تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 488 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 488

تاریخ احمدیت۔جلد 24 466 سال 1968ء میں صرف نو ہزار روٹیاں پک سکیں جبکہ ضرورت پوری کرنے کیلئے ۳۵ ہزار روٹیوں کی ضرورت تھی۔جب اس صورتحال کا سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کو علم ہوا تو حضور نے 11 جنوری کو نماز فجر کے بعد مسجد مبارک میں احباب کو اس صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ ہر شخص خواہ وہ مقامی ہو یا با ہر سے آیا ہو، خواہ وہ جماعتی قیام گاہوں میں مقیم ہو یا کسی پرائیویٹ مکان میں وہ اس دن صبح صرف ایک روٹی پر ہی اکتفا کرے۔یعنی صرف ایک روٹی کھائے اس سے زیادہ نہیں۔نیز ربوہ کے مقامی باشندوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان کے ہاں جو مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں وہ ایک روٹی فی کس کے حساب سے ان کے لئے گھروں میں روٹیاں پکوائیں اور اس سے زائد جو روٹیاں پکواسکیں انہیں سید میر داؤد صاحب کے دفتر میں پہنچوا دیں۔تا کہ وہ روٹیاں جماعتی قیام گاہوں میں ٹھہر نے والے مہمانوں کو مہیا کی جاسکیں۔دفتر معلومات نے جیپوں پر لاؤڈ سپیکر نصب کر کے اور انہیں سارے شہر میں گھما کر حضور کا یہ ارشاد فورا ہی ربوہ کے کونہ کونہ میں نشر کروایا۔ادھر سید میر داؤ د احمد صاحب نے سرگودھا، لائل پور اور بعض دوسرے مقامات کی طرف جیپیں بھجوا کر نئے نانبائی منگوانے کا انتظام کیا۔آن کی آن میں جلسہ پر آئے ہوئے ہزاروں ہزار احباب اور اہل ربوہ اپنے امام ہشام کے اس ارشاد پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اطاعت کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔اُدھر دوسرے نگر خانوں کے کارکنان اور معاونین نے لنگر خانہ نمبر میں روٹی کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔اور خدمت و فدائیت کی نہایت اعلیٰ مثال قائم کر دکھائی۔دوسری طرف گھروں سے بھی محترم میر داؤ د احمد صاحب کے دفتر اور لنگر خانہ نمبر میں پکی پکائی روٹیاں پہنچنی شروع ہو گئیں۔چنانچہ 11 جنوری کی صبح کو مہمانوں اور اہل ربوہ نے اپنے امام ہمام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے صرف ایک ایک روٹی ہی کھائی۔جن کے سامنے میز بانوں کی طرف سے زیادہ روٹیاں پیش بھی کی گئیں انہوں نے ایک روٹی سے زیادہ کھانے سے انکار کر دیا۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کا افتتاح حسب پروگرام بر وقت عمل میں آیا اور انتظامات میں جو رخنہ واقع ہوا تھا وہ مہمانوں کے قربانی و ایثار اور جذبۂ اطاعت نیز میزبانوں کے جذبہ خدمت کی بدولت بر وقت دور ہو گیا۔اس طرح سب نے مل کر یہ ثابت کر دکھایا کہ اگر انہیں یکسر بھوکا بھی رہنا پڑتا تو بھی وہ جلسہ کے انعقاد میں کوئی روک برداشت نہ کرتے اور خالی پیٹ بھی اس میں شامل ہوتے۔اس طرح سب نے مل کر قربانی و ایثار اور اطاعت و خدمت کی نہایت ہی درخشندہ مثال قائم کر دکھائی۔