تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 434 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 434

تاریخ احمدیت۔جلد 24 434 سال 1967ء یہ تقریب لائبیریا حکومت کے محکمہ خزانہ کی دس منزلہ خوبصورت عمارت کے کانفرنس روم میں منعقد ہوئی جو ائر کنڈیشنڈ تھا اور نہایت خوبصورت فرنیچر سے مزین تھا۔لاؤڈ سپیکر کا بھی انتظام تھا۔ساڑھے چار بجے کا نفرنس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔جو یو نیورسٹی آف لائبیریا کے ایک لبنانی طالب علم نے کی۔جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ لائبیریا نے ایڈریس پیش کیا۔جس میں مبلغین کولائبیریا میں اپنی قسم کی پہلی کانفرنس میں شرکت کے لئے خوش آمد ید کہا اور بتایا کہ جماعت احمد یہ حضرت خلیفہ امسیح الثالث کی ازحد ممنون ہے کہ انہوں نے مغربی افریقہ میں مبلغین بھیج کر اسلام کی تبلیغ کا اہتمام کیا۔آپ نے جماعت کی تبلیغی اور تعلیمی مساعی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ احمدی مبلغین کی آمد سے قبل مسلمانوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہ تھا۔جو بچے عیسائی سکولوں میں داخلہ لیتے تھے۔وہ اسلام کو خیر آباد کہہ دیتے تھے۔لیکن جماعت احمدیہ نے مسلمان بچوں کو عیسائیت کی اس یلغار سے نجات دلائی۔آپ نے پبلک سے درخواست کی کہ وہ احمدی مبلغین سے پورا پورا تعاون کریں تا اسلام کا بول بالا ہو اور ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا نصب ہو۔ایڈریس ایک خوبصورت فریم میں مزین مولانا عطاء اللہ صاحب کلیم زونل انچارج کی خدمت میں پیش کیا گیا۔مبلغین کی طرف سے مولانا عطاء اللہ صاحب کلیم نے جماعت احمدیہ لائبیریا کا شکریہ ادا کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام يحى الدين ويقيم الشريعة کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ اب اسلام کا دوبارہ احیاء جماعت احمدیہ کے ذریعہ مقدر ہو چکا ہے لیکن یہ کام اس وقت تک پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکے گا۔جب تک تمام احمدی احباب اپنے فرائض منصبی کو اچھی طرح سمجھ نہ لیں۔آخر میں آپ نے غانا میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ سرانجام دی گئی تعلیمی اور تبلیغی مساعی پر روشنی ڈالی۔شیخ نصیر الدین احمد صاحب آف نائیجیریا ، مولانا محمد شریف صاحب گیمبیا اور قریشی محمد افضل صاحب مبلغ انچارج آئیوری کوسٹ نے مختصر لیکن مؤثر اور پُر مغز تقاریر کیں۔شیخ نصیر الدین صاحب کی تقریر اتحاد المسلمین کی موضوع پر بہت ہی پسند کی گئی۔مولانا محمد شریف صاحب کی تقریر عربی زبان میں تھی۔قریشی محمد افضل صاحب نے فرانسیسی زبان میں تقریر کی۔ان تقاریر کے علاوہ جماعت احمد یہ آئیوری کوسٹ کے پریذیڈنٹ صاحب، جو قریشی صاحب کے ساتھ ہی تشریف لائے تھے، نے