تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 370 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 370

تاریخ احمدیت۔جلد 24 370 سال 1967ء تشریف لے جاتے۔مسجد کا راستہ بہت خراب ہے۔راستے میں ایک ہلکی سی ندی بھی آتی ہے۔کئی دفعہ آپ گر بھی پڑتے۔چوٹ بھی آئی لیکن معمول میں کوئی فرق نہ آیا۔اور کوشش سے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے تھے۔وفات کے وقت آپ کی عمر ۷۲ سال تھی۔آپ کی وفات کی خبر فوراً اس علاقے میں پھیل گئی اور بڑی تعداد میں لوگ آپ کا آخری دیدار کرنے آگئے۔آپ کی وفات کی خبر صوبہ سرحد کے اخباروں میں نمایاں طور پر چھپی۔چنانچہ خیبر میل پشاور نے ۱۵ دسمبر ۱۹۶۷ء پہلے صفحے پرلکھا:۔مرز اغلام حیدر صاحب نوشہرہ کے مشہور وکیل اتوار کے روز وفات پاگئے۔آپ کی عمر ۷۲ سال تھی۔مرزا صاحب شہر کے ایک ممتاز سماجی کارکن تھے۔وہ انجمن تعلیم القرآن کے سیکرٹری، اسلامیہ ہائی سکول کے مینیجر ، گرلز ہائی سکول کے سیکرٹری اور نوشہرہ ایسوسی ایشن کے سابق صدر تھے۔نوشہرہ کی عدالتیں آپ کے سوگ میں ایک دن بندر ہیں۔نوشہرہ چھاؤنی کے ایک ممتاز غیر از جماعت تاجر شیخ محمد یوسف صاحب ایم۔اے نے آپ کے 137 سانحہ وصال سے متاثر ہوکر لکھا:۔جہاں تک ان کے پیشہ ورانہ مشاغل کا تعلق ہے اس میں ان کی دیانت محنت اور فرض شناسی کا ہر وہ شخص معترف ہے جس کو اُن سے اس سلسلہ میں کبھی تعلق رہا ہو۔آپ جب کبھی کسی مقدمہ میں وکالت کا ذمہ اٹھاتے پوری تندہی کے ساتھ اُس کی تیاری کرتے اور ہر مقدمہ کو اپنا ذاتی کام سمجھ کر اُس کی پیروی کرتے۔ایسے اوصاف حمیدہ سے متصف شخص کا دنیا سے اُٹھ جانا ہر جاننے والے شخص کے لئے موجب رنج و غم ہے۔مگر موت ایک ایسی اہل اجل ہے جس سے کسی شخص کو مفر نہیں۔زود یا بدیر ہر شخص کو مرنا ہے۔مگر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو مرنے کے بعد نیک نامی کی اچھی یادگار چھوڑ جاتے ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔السيد رشدى الوسطی صاحب وفات: دسمبر ۱۹۶۷ء 138 محترم مولانا ابو العطاء صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا کہ آپ کا تعلق شام سے تھا۔حیفا