تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 366 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 366

تاریخ احمدیت۔جلد 24 366 سال 1967ء برادر اکبر تھے۔آپ کا منظوم کلام اور مضامین سلسلہ کے اخبارات و جرائد میں شائع شدہ ہیں۔کچھ عرصہ تک حضرت مصلح موعود کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے جہاں جہاں رہے مختلف جماعتی عہدوں پر فائز ہو کر سلسلہ کی عملی اور علمی خدمت میں سرگرم عمل رہے۔ملک غلام نبی صاحب ریٹائر ڈاے۔ڈی۔آئی وفات: ۲۷ نومبر ۱۹۶۷ء پاکستان کے مایہ ناز فرزند میجر جنرل اختر حسین ملک صاحب اور میجر جنرل عبدالعلی صاحب کے والد ماجد تھے۔آپ نہایت مخلص بزرگ اور موصی تھے۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔184 آپ نے کلریاں ضلع ہوشیار پور میں دو دفعہ وقف ایام کر کے دعوت الی اللہ کا بہت اچھا کام کیا۔اور پرائمری سکول کے استاد ہونے کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا اور اے، ڈی ،ایم تک ترقی حاصل کی۔165 135- آپ کو تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔اپنے ہم عصر افسران سے سلسلہ کے متعلق بڑی دیر تک گفتگو جاری رکھتے تھے۔سلسلہ کا لٹریچر تقسیم کرتے اور پیغام حق ہر جگہ پہنچاتے اور کئی دوستوں کو قادیان اپنے خرچ پر لے گئے۔آپ میں چشم پوشی کا مادہ بھی بہت پایا جاتا تھا۔آپ ہمیشہ علیحدگی میں سمجھاتے تھے اور یہی کوشش کرتے تھے کہ اصلاح ہو جائے اور کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ہر بات میں جزئیات کا خاص خیال رکھتے۔چنانچہ آپ نے ایک دفعہ پیرمحمد اکبر صاحب سقراط گولیکی کو ایک سرکاری آرڈر کی کا پہیاں کروانے کے لئے دیں اور نصیحت کی کہ نقل ہو بہو ہونی چاہیئے تا کہ کوئی امر وضاحت طلب نہ رہ جائے اور دوسرے کے ذہن پر دباؤ نہ پڑے۔خود بھی دین و دنیا دونوں کے کام آئے اور اولادکو بھی اس قابل بنایا کہ وہ بھی سلسلہ کے لئے عزت کا باعث اور ملک کے لئے جان پر کھیل جانے والی بنے۔آپ نے اپنے بیٹوں میجر جنرل ملک اختر حسین اور بریگیڈیئر (بعد ازاں جنرل ) ملک عبد العلی دونوں کو قادیان میں تعلیم دلائی۔مرز اغلام حیدر صاحب ایڈووکیٹ نوشہرہ وفات: ۱۰ دسمبر ۱۹۶۷ء