تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 365 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 365

تاریخ احمدیت۔جلد 24 365 سال 1967ء مولا نا تاج الدین صاحب سابق ناظم دارالقضاءر بوہ کا بیان ہے کہ مرحوم ایک نڈر قاضی تھے۔مولوی شیخ طاہر الدین صاحب آف کیرنگ وفات : ۲۰ /اگست ۱۹۶۷ء آپ گورنمنٹ ہائی سکول کے ریٹائر ڈ تجربہ کار ٹیچر تھے۔جب آپ پینشن پا کر اپنے وطن تشریف لے آئے تو ۱۹۴۷ء میں جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے اور سیکرٹری مال کا عہدہ آپ کے سپرد کیا گیا۔آپ کی مساعی جمیلہ نے جماعت احمدیہ کیرنگ کے ذمہ تمام بقایا صاف کر دیا۔آپ جماعت احمدیہ کیرنگ کے سیکرٹری مال ہونے کے ساتھ ساتھ جماعت کے صدر بھی تھے۔مرحوم ماسٹر صاحب جہاں علم دوست تھے وہاں روحانیت سے بھی وافر حصہ رکھتے تھے۔پروفیسر محمد عطاءالرحمن صاحب آف آسام وفات: ۲۷/ اگست ۱۹۶۷ء 131 آپ حضرت مولوی محمد امیر صاحب کے فرزند ارجمند تھے۔آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیوی لحاظ سے عروج پر پہنچے اور آپ صوبائی وزیر داخلہ کے ممتاز عہدہ پر بھی فائز رہے۔ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) میں آپ کے مطبوعہ رشحات قلم سے آپ کے اعلیٰ علمی معیار کا علم ہوتا ہے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے مطابق آپ جب گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے تو مرحوم اپنے علم وفضل میں شہرت حاصل کر چکے تھے۔چنانچہ آپ اس وقت لا ہور تشریف لائے تو آپ کی شہرت کی وجہ سے جوق در جوق لوگ آپ کی تقریر سننے کے لئے پہنچے۔آپ نے اپنے اہل وطن کی خدمت و ہدایت کے لئے بغیر کسی خارجی تحریک کے از خود آسامی زبان میں قرآن مجید مع تفسیری حواشی تیار کیا جو بائیسویں پارے تک مطبوعہ صورت میں آچکا تھا۔اس کے علاوہ آپ نے ستائیسویں پارے تک یہ ترجمہ مع حواشی مکمل کر لیا تھا۔چوہدری بشیر احمد صاحب حقانی (لاہور) وفات: ۸ نومبر ۱۹۶۷ء 132 آپ حضرت مولوی علی احمد صاحب کے صاحبزادے اور ماسٹر نذیراحمد صاحب رحمانی مرحوم کے