تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 361
تاریخ احمدیت۔جلد 24 361 سال 1967ء آپ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی بڑی بیگم تھیں۔مرحومہ حضرت میر صاحب کی پھوپھی زاد تھیں۔آپ کے والد صاحب کا نام سید بشیر الدین صاحب تھا جو سکندرہ را وضلع علی گڑھ کے رہنے والے تھے۔حضرت میر صاحب کی ان سے ۱۹۰۶ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک پر شادی ہوئی۔آپ بہت صابر ، شاکر ، خوش خلق اور ہر ایک کے ساتھ بہت محبت و شفقت سے پیش آنے والی نہایت بزرگ خاتون تھیں۔خدائی مقدرات کے ماتحت شادی کے گیارہ سال بعد تک بھی کوئی اولاد آپ کے ہاں نہ ہوئی۔۱۹۱۷ء میں حضرت میر صاحب نے دوسری شادی محترمہ سیدہ امتہ اللطیف بیگم صاحبہ سے کی جو حضرت مرزا محمد شفیع صاحب کی صاحبزادی تھیں۔ان کے بطن سے تین بیٹے اور سات بیٹیاں خدا تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائیں۔حضرت سیدہ شوکت سلطانہ صاحبہ نے خود بے اولاد ہونے کے باوجود ان بچوں کو اپنی اولا دسمجھا اور ان کی تربیت و پرورش میں بڑھ چڑھ کر پورا پورا حصہ لیا۔اپنے برتاؤ اور حسن سلوک سے گھر کو نمونہ بہشت بنائے رکھا۔حضرت میر صاحب کی دونوں بیویوں کا باہمی سلوک اس قدر اعلیٰ اور مثالی تھا کہ دونوں آپس میں آخر وقت تک نہایت ہی پیار و محبت کے ساتھ رہیں۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں چاردیواری کے اندر حضرت میر صاحب کی چھوٹی بیگم محترمہ سیدہ امتہ اللطیف صاحبہ کے پہلو میں ہوئی۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد اور بزرگانِ سلسلہ کے علاوہ کثیر تعداد میں احباب آپ کی تجہیز و تکفین میں شامل ہوئے۔احمد علی صاحب آف ڈوله مستقیم حجرہ شاہ مقیم وفات ۱۱ را پریل ۱۹۶۷ء 122 احمد علی صاحب ۶۱ - ۱۹۶۰ء میں داخل احمدیت ہوئے۔قبول احمدیت کے بعد گاؤں میں شدید مخالفت شروع ہوگی۔پٹواری اشتمال کا کورس کر کے محکمہ مال میں بطور اشتمال پٹواری سرکاری ملازم ہو گئے۔اور بھائی کوٹ رائے ونڈ میں متعین ہوئے۔جہاں اشتمال اراضی کے موقعہ پر اپنے احمدی ہونے کا ذکر کر کے کسی قسم کی بھی رشوت لینے سے انکار کر دیا۔رشوت نہ لینے کی وجہ سے مخالفین نے