تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 340 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 340

تاریخ احمدیت۔جلد 24 340 سال 1967ء دارالبرکات میں رہائش اختیار کر لی۔آپ کی رہائش پہیلی کوٹھی کے نام سے معروف تھی تقسیم ملک کے بعد لاہور تشریف لے آئے۔لاہور میں آپ کا قیام اپنی چھوٹی ہمشیرہ نظیر بیگم صاحبہ کے ہاں تھا۔وہ چونکہ احمدی نہیں تھیں۔اس لئے ۱۹۴۸ء میں آپ کوٹ رادھا کشن چلے گئے۔وہاں بھی اگر چہ آپ کی ایک بہن امیر بیگم صاحبہ رہتی تھیں، مگر آپ نے اپنی فیملی کے لئے علیحدہ رہائش کا انتظام کر لیا۔پاکستان آکر آپ نے قادیان والے مکان کا اس لئے کلیم (claim) نہ کیا کہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے افراد جماعت کو اس سے منع کیا ہوا تھا۔اس کے بعد آپ نے دار البرکات ربوہ میں اپنا مکان بنوالیا جو بعد میں فروخت کر دیا۔اپنے غیر از جماعت بہن بھائیوں اور عزیز واقارب کا آپ بہت خیال رکھتے تھے۔لیکن جہاں دینی غیرت کا سوال ہوتا تو پھر قطع تعلقی کے لئے بھی تیار ہو جاتے تھے۔کوٹ رادھا کشن والی بہن نے ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے بارے میں کوئی بات کی جو آپ کو ناگوار گذری اور آپ نے اپنی بہن کو واضح طور پر کہہ دیا کہ آئندہ ایسی بات نہ ہو ، ورنہ زندگی بھر آپ سے نہیں ملوں گا۔جس پر بہن نے معذرت کر لی۔آپ بہت مہمان نواز، غریب پرور اور محض اللہ نیکی کرنے والے بزرگ تھے۔آپ کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی اور خاندان مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب اور آپ علی گڑھ میں اکٹھے پڑھتے رہے تھے۔آپ کی شادی محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ سے ہوئی اور ایک بچی کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔جس کے بعد دوسری شادی حضرت ڈاکٹر ظفر حسن صاحب کی صاحبزادی محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ کے ساتھ ہوئی۔جن سے آپ کو خدا تعالیٰ نے ۸ بچے عطا فرمائے۔۱۳ ر ا پریل ۱۹۳۰ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے ایک ہزار روپیہ حق مہر پر آپ کے نکاح کا اعلان فرمایا تھا۔آپ کی وفات ۲۸ اکتوبر ۱۹۶۷ء کو ربوہ میں ہوئی۔بوقت وفات رہائش دار الرحمت وسطی ربوہ میں تھی۔آپ کی نماز جنازہ حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے پڑھائی۔بعد ازاں بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔اولاد ا۔ملک صفی اللہ خاں صاحب مرحوم۔۲۔ملک نصیر اللہ خاں صاحب مرحوم۔۳۔ملک مجیب اللہ خاں صاحب حال مقیم بیت الکرامہ ربوہ۔۴۔شوکت جہاں صاحبہ مرحومہ اہلیہ ملک ظہور الدین خاں صاحب مرحوم آف مور وسندھ