تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 337
تاریخ احمدیت۔جلد 24 337 سال 1967ء فرماتے کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا کہ اس نے مجھے اس انسان کی زیارت کرنے کا موقع عطا فرمایا جس کی انتظار صدیوں سے ہو رہی تھی۔جب آپ لاہور سے کابل کی طرف جانے لگے تو گھوڑا گاڑی کے پائیدان پر قدم رکھ کر نیچے کر لیا اور فرمایا کہ کابل کی زمین میرے سر کی پیاسی ہے۔حضرت والد صاحب نے آپ کو گلے سے لگالیا اور رو پڑے۔آپ نے فرمایا کہ یہ تو خوشی کا مقام ہے رونے کا نہیں۔مکرم حافظ مبین الحق شمس صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے حضرت میاں صاحب کو میرے متعلق بطور سفارش کے اپنے خط میں تحریر فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ آپ اسے دل لگا کر ڈرافٹسمین کا کام سکھا دیں اور کسی جگہ پر کام لگانے کی کوشش کریں میں یہ چند سطور سفارشاً لکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ نہایت اخلاص اور محبت سے اس کام کو کریں گے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء" حضور کا یہ خط لیکر جب میں حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔تو وہ خود بھی اور گھر کے تمام افراد بھی حضور کے اس خط کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے۔حضرت میاں صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ کہ آپ میرے ہاں رہیں اور یہاں ہی کھانا کھاویں۔میں آپ کو کام سکھلاؤ نگا۔حضرت میاں صاحب نے حضور کے اس فرمان کی پوری پوری تعمیل کی اور مجھے نہایت محبت اور اخلاص کے ساتھ کام سکھلایا اور پھر مجھ کو میونسپل کمیٹی میں بطور ڈرافشمین کے ملازم بھی کروایا۔اولاد 86 ا۔عبدالمالک صاحب مرحوم -۲- عبد السلام صاحب مرحوم ۳۔عزیز احمد صاحب ۴ محمود احمد صاحب ۵ - رشیده صاحبه ۶ - زبیدہ صاحبہے۔امینہ صاحبہ ۸ خورشیدہ صاحبہ ۹- عزیزہ صاحبہ ۱۰۔رفیعہ صاحبہ ۱۱- اختر صاحبہ ۱۲- محمودہ صاحبہ حضرت طالعه بی بی صاحبہ ولادت: ۱۸۸۲ء بیعت سن کی تعیین نہیں ہوسکی وفات: استمبر ۱۹۶۷ء آپ حضرت منشی محمد حسین صاحب کی اہلیہ محترمہ اور مکرم منشی احمد حسین صاحب ہیڈ کا تب الفضل، احکام اور البدر کی والدہ محترم تھیں۔آپ بہت نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ان پڑھ تھیں لیکن قرآن مجید پڑھ سکتیں تھیں۔آپ کی وفات کراچی میں ہوئی اور وہیں تدفین ہوئی۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیہ ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔