تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 326 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 326

تاریخ احمدیت۔جلد 24 326 سال 1967ء اللہ تعالیٰ کے حضور بہت استغفار کیا اور حضور والا کی خدمت میں یہ تمام واقعہ لکھ دیا۔میں جب سے احمدی ہوا تھا۔اس وقت سے میرے والد صاحب سخت مخالف تھے۔۔۔اور جس پیر صاحب کے وہ مرید تھے وہ بڑے مشہور و معروف اور بڑے تقویٰ والے انسان پٹیالہ میں گنے جاتے تھے۔یعنی ہزاروں آدمی ان کے شہروں میں اور دیہاتوں میں مرید تھے۔کتنی دفعہ میرے والد صاحب اپنے پیر صاحب سائیں جمال شاہ کے پاس مجھ کو لیکر گئے۔اور بہت کوشش کی کہ سائیں صاحب میرے لڑکے کو سمجھاؤ۔جب بھی وہ مجھ سے گفتگو کرتے تو میں خدا کے فضل سے ان کے آگے ایسے دلائل رکھتا کہ وہ ان کو توڑ نہ سکتے۔ایک دن کا واقعہ ہے کہ میرے والد صاحب نے اپنے پیر سائیں جمال شاہ کو اپنے گھر پر کھانے کے لئے دعوت دی۔چونکہ میں ابھی وہیں اس دعوت میں شریک تھا۔کھانا کھانے کے بعد میرے والد صاحب نے پیر صاحب کی خدمت میں عرض کی تاکہ وہ مجھ کو سمجھا ئیں۔پیر صاحب میری طرف مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ تم نے مرزا کا کیا دیکھا تم کیوں ان کو نہیں چھوڑتے۔میں نے عرض کی کہ حضرت کا چھوڑنا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوڑنا ہے۔میں کس طرح ان کو چھوڑ دوں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تمھارے مرزا صاحب میں روحانی طاقت ہے یا معجزہ یا کرامات رکھتے ہیں تو آئیں میرے مقابلہ پر۔اس طرح سے کہ میں ایک ماہ کے لئے مراقبہ میں بیٹھتا ہوں وہ بھی میرے ساتھ ایک ماہ مراقبے میں بیٹھیں۔میں بھی کھانا پینا حرام کر دوں گا وہ بھی کھانا پینا حرام کر دیں۔دنیا دیکھ لے گی کہ کس میں روحانی طاقت زیادہ ہے اور کون فتح یاب ہوتا ہے۔جولوگ وہاں پر موجود تھے بہت خوش اور واہ واہ کے نعرے لگانے لگے کہ پیر صاحب نے کیا ہی عمدہ کہا ہے۔تمام میری طرف مخاطب تھے کہ اب یہ کیا کہتا ہے میرے والد صاحب بھی خوش تھے کہ اس بات کا میرے لڑکے کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔میں نے نہایت ادب سے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں کچھ کہوں۔مجھے آپ کا یہ معیار مراقبہ والا قرآن مجید کے خلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قابل قبول نہیں۔کیونکہ خدا کی کتاب یوں کہتی ہے کہ محمد رسول اللہ کے خلاف ایک قدم بھی چل کر انسان منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔اس لئے آپ کا مراقبے والا معیار قابل قبول نہیں۔چلو اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔تو میں آپ کے ساتھ مراقبے میں بیٹھ جاتا ہوں۔جب تک آپ نہ کھانا کھاؤ گے میں بھی نہ کھاؤں گا اور جب تک تم نہ پانی پیو گے میں بھی نہ پیوں گا۔اور پھر اگر آپ مجھ پر اپنا روحانی اثر نہ ڈال سکے اور نہ مجھ کو زیر کر سکے تو ایک کاغذ بطور تمسک کے لکھ لیں کہ کم سے کم میں اگر اپنا روحانی اثر نہ ڈال