تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 325 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 325

تاریخ احمدیت۔جلد 24 325 سال 1967ء کی حرمت نہیں رہی۔مخالفوں نے ہر چند شور مچا کر کوشش کی کہ تقریر بند ہوجاوے ، مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتظام کے ساتھ تقریر برابر شروع رہی۔باہر جا کر ایک مولوی سعد اللہ نام نے بہت شور مچایا۔لوگوں کو اکسایا کہ تقریر کے دوران میں خرابی پیدا ہو۔مگر خیر خوبی کے ساتھ تقریر ختم ہوئی۔اگلی صبح کو حضور امرتسر کو روانہ ہوئے۔وہاں جماعت امرتسر نے حضور سے تقریر کر نیکا وعدہ لیا ہوا تھا۔وہاں سے ہم پٹیالہ واپس ہو گئے۔جب ہم کو معلوم ہوا کہ امرتسر میں دوران تقریر میں لوگوں نے حضور کو اینٹیں ، پتھر مارنے شروع کئے۔حتی کہ گاڑی میں بیٹھنے کے وقت بھی بہت سارے روڑے پھینکے گے۔مجھے یہ یاد نہیں کہ پٹیالہ کی جماعت میں سے کون دوست لدھیانہ سے امرتسر حضور کے ساتھ تشریف لے گئے۔انہوں نے پتھروں کا واقعہ سنایا تھا۔مگر سن کر دل کو بہت افسوس ہوا کہ ہم ساتھ کیوں نہ گئے۔اس کے بعد میں جس محلہ میں رہتا تھا اکیلا ہی احمدی تھا۔ایک مولوی فاضل کرامت اللہ میرے مکان کے پاس رہتا تھا۔وہ ظاہر تو نیک معلوم ہوتا تھا۔مگر اندرون سے حضور کا سخت دشمن تھا۔وہ ہر جمعرات کو اس مسجد میں وعظ کیا کرتا تھا اور حضرت صاحب کی شان میں سخت لفاظی کرتا اور جھوٹے حوالے دے کر لوگوں میں حضرت کے دعوی کو جھوٹا ثابت کرتا۔۔۔مولوی صاحب کے الفاظ میرے کان میں پڑتے تو میں برداشت نہ کر سکتا اور نہ میں دوکان چھوڑ کر وہاں سے کسی جگہ جا سکتا تھا۔سخت تنگ ہوکر یہ سارا واقعہ حضور والا کی خدمت میں لکھا۔حضور نے میرے پاس کتاب انجام آتھم روانہ کی اور لکھا کہ یہ چند سطور مباہلہ والی مولوی کو سنا دیں۔اگر نہ سنے تو یہ کتاب ہی اس کو دے دیں۔چنانچہ اگلی جمعرات کو اُس نے حضرت صاحب کے خلاف کہا تو میں وہ کتاب لیکر مسجد میں گیا۔تو اس نے وہ کتاب نہ خودسنی اور نہ اور لوگوں کو سننے دی۔مجبوراً میں وہ کتاب ان کو دے کر چلا آیا۔اور ان کو قسم دے کر کہہ آیا کہ اس کتاب کو ضرور بغور پڑھیں۔اس کے بعد خدا معلوم اس نے یہ کتاب پڑھی یا نہ پڑھی مگر ایک ماہ کے بعد وہ بالکل پاگل ہو گیا۔اور الف ننگا ہوکر گلیوں میں پھرتا تھا۔اور مور یوں کا پانی اور کیچڑ پی لیتا تھا۔وہ اسی حالت پاگل پن میں فوت ہو گیا۔ایک روز میں کسی کام کے واسطے اس مولوی کے مکان کی طرف گیا۔وہ لوہے کے سنگل سے جکڑا ہوا تھا۔کچھ لوگ دیوار پر چڑھ کر اس کا تماشہ دیکھے رہے تھے۔میں نے سوچا کہ میں بھی مولوی صاحب کو دیکھ لوں۔چنانچہ جب میں نے دیوار پر چڑھ کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا تو مولوی صاحب میری طرف مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ او مرزائی تو نے مجھ کو پاگل تو بنا دیا۔ابھی بھی تجھ کو چین نہیں آتا۔میں یہ سن کر دیوار سے نیچے اتر آیا اور