تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 319
تاریخ احمدیت۔جلد 24 319 سال 1967ء اختیار فرمایا جس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔تیسری بار جولائی ۱۹۵۶ء میں دمشق بھیجا گیا جہاں مجھے تین ماہ قیام کا موقع ملا اور دمشق میں ایک مضبوط جماعت دیکھ میرے جسم کا رواں رواں متاثر ہوا اور ہفتہ میں دو دفعہ دوست جمع ہوتے۔جمعہ کے روز اور ایک دفعہ ہفتہ وار اجلاس میں۔اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنے فضل سے حضرت خلیفہ المسیح کو تحریک فرمائی اور میں دمشق بھجوایا گیا۔دمشق میں علاوہ مذکورہ بالا خاص تربیت سے متعلق ( موقعہ ملنے کے ) قدیم دوستوں وغیرہ میں عام تبلیغ کا بھی موقعہ ملا اور اسی اثناء میں قادیانی مسئلہ کا جو جواب جماعت کی طرف سے مرکز میں شائع ہوا تھا وکالت تبشیر کی فرمائش پر مجھے ترجمہ کرنے کی توفیق ملی۔سید سلیم الجابی نے اپنی طرف سے ایک الگ جواب عربی زبان میں تیار کیا تھا جو میرے نزدیک مناسب نہ تھا۔اصل جواب وہی تھا جو حضور کی پسندیدگی سے شائع ہوا تھا۔اُن کا خیال تھا کہ بعض باتیں اُس جواب میں قابل حذف ہیں۔حضور سے مشورہ کرنے کے بعد دونوں مسودے منیر الحصنی صاحب کو بھجوا دئے گئے تھے۔چنانچہ دورانِ قیام دمشق میں ان کو مشورہ دیا کہ دونوں مسوڑوں سے اخذ کر کے نئی شکل دے دیں مگر علماء کے تکفیر کا حصہ ضرور رکھا جائے گا۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔اور المودودی فی المیز ان کے نام سے کتاب شائع کی جس کا بہت گہرا اثر ہوا اور اس کا بیشتر حصہ وہی ہے جو قادیانی مسئلہ کے جواب میں آچکا ہے اور جس کا ترجمہ عربی زبان میں کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ کمیونزم کے اثر کو دیکھ کر ایک کتاب اور سید ابوالفرج کو کھوائی۔وہ ٹائپ جانتے ہیں اور انہیں تبلیغ کا شوق ہے۔اس مسودہ کے شائع کرنے میں سید منیر احصنی صاحب کو تر ڈ دتھا کہ حکومت مواخذہ کرلے گی کیونکہ اس کے تعلقات سوویٹ کے ساتھ ہیں۔اسی اثناء میں میری واپسی ہوئی اور میں اپنی موجودگی میں یہ رسالہ شائع نہیں کروا سکا۔اکثر احباب کی رائے تھی کہ اسکی اشاعت وقت کی ضرورت ہے۔میں نے اس میں صرف اسلامی اصول اور اشتراکیت کے اصول کا موازنہ کیا تھا اور نتیجہ کے لحاظ سے بتایا تھا کہ کون کامیاب ہے۔اسلام یا اشتراکیت۔غرض اس تیسرے سفر میں خدا تعالیٰ نے خدمت دین کا موقع دیا۔اجمالی خاکہ 66 حضرت ولی اللہ شاہ صاحب کی انتظامی خدمات کا اجمالی خاکہ پیش ہے۔