تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 318
تاریخ احمدیت۔جلد 24 318 سال 1967ء یہ مضمون تھا آپ کی اس درد بھری گفتگو کا جس کی یاداب بھی میرے دل کو ٹھیس لگاتی ہے۔دار الامان پہنچ کر صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے تبادلہ کی باقاعدہ اطلاع مجھے ملی۔اور مجھ سے دریافت کیا گیا۔کہ اپنے لئے تصنیف کا کوئی کام تجویز کروں۔عربی زبان میں لکھنے کا ایک کام میں نے تجویز کیا۔جسے صدر انجمن نے باتفاق رائے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی آخری منظوری کے لئے پیش کیا۔مگر آپ نے اُسے نامنظور کرتے ہوئے مجلس شوری کے مقامی کارکنوں سے مشورہ لینے کا حکم دیا۔تبادلہ کے متعلق سابقہ حکم میں مجھ سے تصنیف کا کام لینے کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے لکھا کہ مثلاً بخاری کا ترجمہ اور شرح کا کام نہایت ضروری ہے۔جو ان سے لیا جاسکتا ہے۔اور اس بارے میں مشورہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔اس حکم میں صراحت نہ تھی۔اور چونکہ مجھے احادیث میں دسترس بھی نہ تھی۔اس لئے میں اس سے بہت ڈرتا تھا۔اور اس دوسرے مشورہ میں احباب نے بھی یہی رائے پیش کی کہ صحیح بخاری کے سوا کوئی اور کام مجھے دیا جائے۔میں اس قابل نہیں ہوں۔اور قرار پایا کہ عربی زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر ایک مفصل اور مستند کتاب لکھی جائے۔مگر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس تجویز کو بھی نا منظور کرتے ہوئے واضح الفاظ میں حکم دیا کہ میں فوراً صحیح بخاری اور ترجمہ کا کام شروع کر دوں۔اور اس کے بعد آپ نے اس بارہ میں اُصولی ہدایات سے مجھے متمنع فرمایا۔آپ کے اصل مقصد کو سمجھ کر محض اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے میں نے یہ مبارک کام شروع کر دیا۔پہلے تین چار سالوں میں ترجمے کا کام مکمل ہوا۔66 وسط ۱۹۲۷ء میں آپ مجلس منتظمہ ولوکل کمیٹی قادیان کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔۱۹۳۱ء میں تحریک کشمیر کی زمام سیدنا حضرت مصلح موعود کے ہاتھ میں دی گئی۔اس تحریک میں حضرت شاہ صاحب نے مقدس امام کے نمائندہ کی حیثیت سے نہایت شاندار کار ہائے نمایاں انجام دیئے جن کا مفصل تذکرہ تاریخ احمدیت جلد ششم میں آچکا ہے۔۴ ستمبر ۱۹۴۷ء سے ۹ / اپریل ۱۹۴۸ء تک آپ اسیر راہ مولیٰ رہے اور ۱۰ را پریل ۱۹۴۸ء کو رہا ہوئے کرب و بلا کا یہ زمانہ آپ نے بے مثال صبر و استقامت اور کمال ایقان و عرفان سے گزارا۔65 تیسر اسفرشام جولائی ۱۹۵۶ء میں آپ نے سیدنا حضرت مصلح موعود کے حکم پر تیسری اور آخری بارسفر شام