تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 9
تاریخ احمدیت۔جلد 24 9 جلسہ سالانہ میں بھارتی احمد یوں کی شمولیت اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا پر معارف خطاب سال 1967ء اس سال قریباً ساڑھے چارسو بھارتی احمدیوں کا قافلہ ربوہ کے جلسہ سالانہ میں شامل ہوا۔اور جلسہ سالانہ کی برکات حاصل کرنے اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی زیارت اور روح پرور خطابات سُننے اور دوسرے احمدی بھائیوں سے رابطہ پیدا کرنے اور اجتماعی دعاؤں میں شریک ہونے کے بعد ے فروری ۱۹۶۷ء کو واپس ہندوستان روانہ ہوا۔یہ قافلہ ۲۴ جنوری ۱۹۶۷ء کو چوہدری مبارک علی صاحب ایڈیشنل ناظر امور عامہ کی قیادت میں پاکستان آیا تھا۔جس کار بوہ سٹیشن پر پر تپاک استقبال کیا گیا۔ان کے قیام کا انتظام دارالضیافت میں تھا۔۲۹ جنوری ۱۹۶۷ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے بھارتی احمد یوں کو شرف ملاقات بخشا۔۳۱ جنوری کو حضور انور نے قصر خلافت کے صحن میں دو پہر کے کھانے پر مدعو فر مایا۔۳ فروری کو لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی طرف سے لجنہ ہال میں درویشان قادیان کے اہل وعیال کو کھانے کی دعوت دی گئی۔۶ فروری ۱۹۶۷ء کو حضور نے درویشان قادیان سے ایمان افروز خطاب فرمایا۔اور نہایت دلنشین انداز میں بیش قیمت ہدایات سے نوازا۔حضور نے خطاب کے دوران فرمایا کہ:۔حضرت مصلح موعود باون سال تک محبت اور پیار کے ساتھ اپنی جماعت کی تربیت کرتے رہے حضور لوگوں سے نذرانے قبول فرماتے مگر اس کے ساتھ اس کی قیمت بھی ادا کرتے اس کی قیمت چہرے کی وہ سرخی اور دل کا وہ احساس ہوتا تھا جو دعا کی شکل میں نذرانے دینے والے کے حق میں ظاہر ہوتا۔اللہ تعالیٰ کے دینے کے ایسے ذرائع اور راستے ہیں کہ ان کے متعلق انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ جب دینے پر آتا ہے تو ایسے رستوں سے دیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔خدا کے دروازے کو چھوڑ کر کسی عاجز بندے کے متعلق آپ کبھی خیال بھی نہ کریں کہ وہ آپ کی ضرورت پورا کرنے والا ہوگا۔خدا پر کامل تو کل کا مقام حاصل کریں۔ایسے ماحول میں صرف اسی کی طرف آپ کی نگاہیں اُٹھتی رہیں۔کسی اور طرف نہ جائیں۔پانچ سوسال بعد بھی جب تاریخ دان تاریخ لکھیں تو آپ سے متعلق اللہ تعالیٰ کے