تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 8 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 8

تاریخ احمدیت۔جلد 24 8 سال 1967ء دولحاظ سے چند ہزار کی زیادتی ہوئی۔ان سب چیزوں کو دیکھ کر دل خدا کی حمد سے اتنا معمور ہوا کہ انگریزی میں کہتے ہیں OVERFLOW کر گیا۔یعنی حمد اتنی شدت اختیار کر گئی کہ دل اور روح میں سانہیں سکتی تھی۔باہر نکل رہی تھی۔یہ حمد کے جذبات اور شکر کے خیالات جو ہیں۔یہ میرے اکیلے کے جذبات نہیں بلکہ میرے ہر بھائی کے جذبات ہیں۔۔۔۔۔۔۔جلسہ کے دنوں میں اللہ تعالیٰ کے بڑے ہی انوار نازل ہوتے رہے ہیں۔بڑی ہی برکات کا نزول ہوا ہے۔اپنے تو محسوس کرتے ہی ہیں۔اور اس پر شکر بھی بجالاتے ہیں۔لیکن دوسروں کے لئے ایسی چیزوں کا پہچانا اور سمجھنا اور ان کو انوار الہی اور برکات سماوی یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے بھی اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔مجھے بڑی خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ ہمارے چند غیر مبائع دوست بھی یہاں تشریف لائے تھے۔اور ان میں سے چند ایک نے تو یہیں بیعت کر لی۔اور ایک کے منہ سے تو نکلا کہ ہم تو کچھ اور ہی سمجھتے تھے۔لیکن یہاں آکر کچھ اور دیکھا۔سمجھتے تو وہ وہی تھے نا ! جوان کو بتایا جاتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا فضل مبایعین کی جماعت کے ساتھ نہیں ہے بلکہ غیر مبایعین کی جماعت کے ساتھ ہے، سنی سنائی باتوں پر وہ یقین رکھتے تھے۔لیکن جو آنکھ نے دیکھا اس نے کان کو جھٹلا دیا۔اور انہوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہزار قسم کے فضل اور اس کی رحمتیں اس جماعت پر نازل ہورہی ہیں۔اور خصوصاً جلسہ کے ایام میں تو اللہ تعالیٰ دلوں پر تصرف کر کے ایک خاص کیفیت روحانی پیدا کر دیتا ہے۔اس سے وہ متاثر ہوئے اور یہیں انہوں نے بیعت کر لی۔ایک دوست تھے وہ کسی وجہ سے بیعت تو نہیں کر سکے لیکن ان کا تاثر یہ تھا کہ وہ ایک دوست سے ۲۸ جنوری کی صبح کو کہنے لگے کہ میں قسم کھا کے کہہ سکتا ہوں کہ یہ تقریر جو غیر مبایعین کے متعلق تھی ۲۷ تاریخ کو ساری کی ساری الہامی تھی۔تقریر الہامی تو نہ تھی اگر چہ اس کے خاص فضل کی حامل تھی۔مگر اس قسم کا اثر اللہ تعالیٰ نے ان کے دماغ پر ڈالا۔13