تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 242 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 242

تاریخ احمدیت۔جلد 24 242 سال 1967ء دادگستری درآمد - بزبان اردو شعر می سراید ولی در زبان فارسی تلمیذ حضرت بسمل بود۔در تاریخ گوئی ہم ماہر است - الحال در شهر لائکپور زندگی می کند دیوان خود را تحت عنوان ” در دو درمان بیچاپ رسانیده است انتخاب زیر از همان جاست :۔آپ کے والد (حضرت منشی ) ظفر احمد صاحب ریاست کپورتھلہ میں منشی تھے۔محمد احمد (مظہر ) اپنے والد کے ہمراہ مجالس شعر وفن میں حاضر رہتے۔اسی طرح اوائل عمر شعر میں شاعری سے لگاؤ پیدا کرلیا۔ان کے والد صاحب کی خواہش تھی اور اسی شرط پر انہوں نے محمد احمد کو شاعری کی اجازت دی کہ وہ غزل گوئی سے مجتنب رہ کر صرف نظم اور مثنوی کی صنف کو اختیار کریں گے۔جوانی کے ایام میں لاہور پہنچے۔حصول تعلیم کے بعد وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔اردو میں شعر کہتے ہیں۔فارسی میں حضرت بہل کے شاگرد ہیں۔تاریخ گوئی میں بھی ماہر ہیں ان دنوں لائکپور میں سکونت پذیر ہیں۔آپ کا دیوان بعنوان در دو در ماں“ شائع ہو چکا ہے۔یہ اشعار اسی سے منتخب ہیں:۔با اہل تناسخ گو، از بنده بپاسخ گو چون مفت ہے افتی دایم بعذ اب اندر داور چو عمل سنجد ، تنہا نہ عمل سنجد ہم نیست سالک را گیر دبحساب اندر از تست سوال من، وز تست مراد من چون از تو ترا خواهم خود به جواب اندر از درد چو درمانم، در آپی درمانم اے چارہ گر مظہر ، لطفی بعتاب اندر وو به ندارد کس چنین سامان محرومی که من دارم بہر گامی غلط رفتم بهر کاری خطا کردم بکار خویش حیرانم به هم خود نمی آید که من این ناروائی ہا چسان برخودر وا کردم گریبان چاک و دامن چاک و دل ہم چاک میدارم ندانم چاره گر آخر کرا عزم رفو دارد بکوئی عشق اگر دیوانہ باشی شہر ما بسی فرزانه باشی دل و جان در سرکار تو کردم چه مے پرسی چرا بیگانه باشی تاریخ وفات حضرت عنایت علی لدھیانوی گفته است:- عاشقاں بعد مرگ زنده شدند ہان وہان زنده را تو مرده مخوان بود مظهر بفکر سال وصال آمد آواز غیب "الغفران" ۱۳۹۲