تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 226
تاریخ احمدیت۔جلد 24 226 سال 1967ء میں اس فرقہ کے مبلغین نے اشاعت اسلام کے سلسلہ میں جو خدمات انجام دی ہیں۔انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔چونکہ غیر مسلم ممالک میں اسلام کو ایک عالمگیر مذہب کی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے۔یورپی ممالک میں عام طور پر اور افریقی ممالک میں خاص طور پر مذہب اسلام کو عیسائیت کا مد مقابل سمجھا جاتا ہے۔افریقی ممالک میں عیسائیت پھیلانے کے لئے جہاں عیسائی مبلغین سرگرم عمل ہیں، وہاں ان کے مقابلہ میں مسلمان مبلغین کے لئے بھی اشاعتِ اسلام کے سلسلہ میں دن رات کام کرنے کی ضرورت سے کون انکار کر سکتا ہے۔اس سلسلے میں جماعت احمدیہ کے مبلغین پیش پیش ہیں۔جس کی وجہ سے بیرونی ممالک میں کلمہ گویانِ محمد ﷺ کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اشاعت اسلام کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے مبلغین جس فرض شناسی ، تند ہی اور خلوص دل سے خدمات انجام دے رہے ہیں وہ انہیں کا حصہ ہے اور یہ احمدی جماعت کے مخلص کارکنوں کی قربانیوں اور اسلام سے قلبی تعلق کا ثمر ہے۔امام جماعت احمدیہ کا حالیہ دورہ یورپ انتہائی کامیاب اور مؤثر رہا ہے۔کوپن ہیگن کی مسجد نصرت جہاں میں ( جو صرف احمدی مستورات کے چندہ سے تعمیر ہوئی ہے ) امام موصوف نے جو تقریر کی ہے، اس کے بہت اچھے اثرات ہوئے ہیں۔اپنی تقریر میں امام موصوف نے اہلِ یورپ کو انتباہ فرمایا:۔وو یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک ان سے محفوظ ہے۔میں تو دیکھتا ہوں کہ شاید ان سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے۔اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ ( دراصل یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک الفاظ ہیں جو حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۵۷ پر درج ہیں اور حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے اپنے خطاب میں یہ اقتباس پڑھا تھا۔) یہ ایسی باتیں ہیں جن سے مسلمانوں کے کسی فرقے کا کوئی آدمی بھی اختلاف نہیں کرسکتا۔ہم