تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 206
تاریخ احمدیت۔جلد 24 206 سال 1967ء آپ نے فرمایا کہ افتتاح کے موقع پر یہ اعلان کیا گیا کہ ہر وہ شخص جو خدائے واحد کی عبادت کرنا چاہتا ہے اور نیک نیتی کے ساتھ آنا چاہتا ہے تو اس کے لئے مسجد کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔چنانچہ اس اعلان کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسیوں بچوں نے ( گو یہ عمر نا کبھی کی ہے ) ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو کر نماز ادا کی۔اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ سینکڑوں عیسائی مردوں اور عورتوں نے ہماری دعا اور نماز کے وقت اس عبادت میں اس طرح شرکت کی کہ وہ بھی سر جھکا کر اس نماز کے وقت دعا کرتے رہے اور ایک شخص نے اخبار میں لکھا کہ اس روز ہمیں عبادت کا جو مزہ آیا وہ ہمیں کسی اور جگہ نہیں ملا۔اس دورے کے نتیجہ میں فوری طور پر پانچ بیعتیں ہوئیں۔ان بیعت کرنے والوں میں ایک کیتھولک نوجوان بھی شامل ہیں اور وہ سکنڈے نیویا میں پہلے کیتھولک نو جوان ہیں جس نے اسلام اور احمدیت کو قبول کیا ہے اس طرح کیتھولک عیسائیوں کے لئے بھی جو اپنے مذہب میں بڑے کٹر ہوا کرتے ہیں، اسلام کا دروازہ کھل گیا ہے۔پھر خواتین کے اخلاص و وفا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کوپن ہیگن میں ہماری پانچ سات احمدی بہنیں۔وہ صبح آٹھ بجے سے لے کر رات کے گیارہ بجے تک جماعت کے کاموں میں مشغول رہتی تھیں اور بڑے شوق سے کام کرتی تھیں۔اسی طرح زیورک میں ہماری ایک احمدی بہن ہے وہ ایک بڑے مشہور نواب کی بیٹی ہیں۔وہ احمدی ہو چکی ہیں۔وہ وہاں صبح سے لے کر شام تک نوکروں کی طرح کام کیا کرتی تھیں۔وہ برتن صاف کرتی تھیں اور کھانے پکانے میں مدد کرتی تھیں۔وہ اتنی باحیا تھیں کہ نقاب نہ ہونے کے باوجود برقعہ میں ہوتی تھیں۔نظر ہر وقت نیچے کئے ہوئے اور سر ڈھانکے ہوئے۔ان کے چہرہ پر مجسم حیا کی روشنی چمکتی تھی اور جب وہ بے وقت کام سے فارغ ہو کر گھر واپس جاتی تھیں تو یہ احساس ہوتا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ اگر کوئی اور کام ہوتا تو وہ بھی میں کرتی چاہے ساری رات ہی یہاں کیوں نہ گزر جاتی غرض بڑی فدائی احمدی بہنیں وہاں پیدا ہو چکی ہیں۔ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کوپن ہیگن میں جب مجھ سے یہی سوال کیا گیا کہ آپ ہمارے ملک میں کس طرح اسلام پھیلائیں گے تو میں نے کہا کہ یہ سوال مجھ سے زیورک میں بھی کیا گیا تھا اور میں نے اس کا یہ جواب دیا تھا کہ دلوں کو فتح کر کے۔اس مجلس میں ایک بڑی باوقار صحافی عورت بھی بیٹھی ہوئی تھی اس نے یہ جواب سُن کر بڑے وقار سے پوچھا کہ آپ ان دلوں کو کریں گے کیا؟ میں نے اسے جواب دیا کہ ہم انہیں پیدا کرنے والے رب کے قدموں پر جارکھیں گے۔اس