تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 204 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 204

تاریخ احمدیت۔جلد 24 204 سال 1967ء کے ساتھ ، اخوت اور برادرانہ رنگ میں ہم سے باتیں ہورہی تھیں اور اس چیز نے مجھے پر بڑا اثر کیا۔ان کو کیا معلوم کہ جو شخص اپنے رب کی معرفت کو لیتا ہے۔اس کے لئے سوائے نیستی کے مقام کے اور کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔خود بینی تو بت پرستی ہے مشرک ہے ایسا شخص جو اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے۔جو شخص تو حید پر قائم ہے وہ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا وہ اپنی حقیقت کو جانتا ہے۔اور اپنے رب کی طاقت کو بھی پہچانتا ہے۔اس کے دل اور دماغ میں تکبر اور غرور اور اپنی بڑائی اور اپنے علم کا زعم کس طرح پیدا ہو سکتے ہیں۔مجلس انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کی استقبالیہ تقریبات استمبر ۱۹۶۷ء کوقصر خلافت میں حضرت خلیفہ المسح کے اعزاز میں چوتھی استقبالیہ تقریب مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے زیر اہتمام انعقاد پذیر ہوئی۔جس میں مولانا ابوالعطاء صاحب نے سپاسنامہ پیش کیا۔سپاسنامہ کے جواب میں حضور انور نے ایک مختصر خطاب فرمایا جس کا متن درج ذیل ہے۔یوں تو انسان کے لئے کسی وقت بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار کر سکے لیکن بعض اوقات ان بے شمار نعمتوں کا ہجوم ایک محدود وقت کے اندر کچھ اس طرح جمع ہو جاتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔اس وقت جذبات میں میرے بڑا تلاطم پیدا ہو گیا ہے۔یہ سوچ کر کہ اس سفر کے دوران اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے فضلوں اور رحمتوں کی بارش کچھ اس طرح کی کہ ایک عاجز انسان میرے جیسا تو نہ الفاظ پاسکتا ہے۔نہ کوئی اور طریقہ ڈھونڈ سکتا ہے اللہ تعالیٰ کے شکر ادا کرنے کا۔اور اس وقت حمد کے جذبات کا اس قدر ہجوم ہے کہ میرے لئے کوئی تقریر کرنا ممکن نہیں اس لئے میں دعا پر آج کی اس تقریب کو ختم کرتا ہوں۔دوست مل کے 158 دعا کر لیں۔اسی روز پانچویں استقبالیہ تقریب لجنہ اماءاللہ مرکزیہ، لجنہ اماء الله ر بوہ اور ناصرات الاحمدیہ کی طرف سے بعد نماز عصر لجنہ اماءاللہ ہال میں منعقد ہوئی، جس میں مقامی خواتین کے علاوہ پنجاب کے