تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 203 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 203

تاریخ احمدیت۔جلد 24 203 سال 1967ء حالانکہ ہونے ہیں جلدی۔اس واسطے اپنی رفتار تیز کرو۔تو ہمیں آہستہ نہیں چلنا۔ہم نے دوسروں کی تیزی جتنی تیزی بھی نہیں دکھانی بلکہ ان سے زیادہ تیز چلنا ہے۔انگلستان میں ( میں اللہ تعالیٰ کا ایک نہایت ہی عاجز بندہ ہوں۔بہت کمزور ہوں۔سردرد کے بھی دورے ہو جاتے ہیں۔لیکن وہاں ) چونکہ اندر ایک آگ لگی ہوئی تھی۔تربیتی امور میں یا تبلیغی کاموں میں مصروف رہ کے میں قریباً سارا عرصہ ایک اور دو کے درمیان یا اکثر دو کے بعد سویا ہوں۔ایک دن ایک بزرگ مجھے کہنے لگے۔تھک گئے ہیں۔آپ ذرا خیال رکھیں آرام کریں۔تو میں نے ان کو جواب دیا کہ آرام کی عادت ہی نہیں رہی۔۔۔پھر دیانت کا ہمیں سبق دیا گیا تھا۔دیانت ، بندوں کے ساتھ جو تعلقات ہیں ان کے لئے بھی ضروری ہے۔بد دیانتی کے نتیجہ میں جھوٹ آدمی بولنے لگ جاتا ہے۔جب وہ دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض ادا نہ کر رہا ہو اور ظاہر یہ کرنا چاہے کہ میں دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کر رہا ہوں اسے جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔پس جب تک دیانتدارانہ تعلقات آپس کے نہ ہوں۔اپنے رب سے نہ ہوں۔اس وقت تک ہم اپنے رب کی رضا کو حاصل کیسے کر سکتے ہیں۔پھر تمہیں سبق دیا گیا تھا۔خادم نام میں کہ کسی وقت کبر اور غرور تم میں پیدا نہ ہو بلکہ خادمانہ ذہنیت اپنے اندر پیدا کرو۔محض خدمت کرنا کوئی چیز نہیں۔انسان کو ایسا ہونا چاہئے کہ ہر وقت وہ اپنے آپ کو خادم سمجھتار ہے۔اس کی باتوں میں، اس کی طرز میں جب وہ کسی کو مخاطب ہو اس میں کسی قسم کی بڑائی نظر نہ آئے۔ہر وقت عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے والا ہو اور اس عاجزی میں بڑی شان اور بڑی طاقت ہے۔زیورک میں ایک بہت بڑے غیر احمدی بھی آئے ہوئے تھے (ریسیپشن میں ہر ایک اپنی نظر سے دیکھتا ہے دوسرے کو ) وہ چوہدری مشتاق احمد صاحب کو کہنے لگے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ایک مقام عطا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ بڑا ارفع مقام ہے۔لیکن جس وقت ہم آپس میں بیٹھے اور باتیں کیں۔تو بالکل یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کوئی بزرگ یا کوئی بلند مقام والا آدمی ہم سے باتیں کر رہا ہے۔اس طرح بے تکلفی