تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 197 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 197

تاریخ احمدیت۔جلد 24 197 سال 1967ء طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔ان سب لوگوں کے کان میں جو آواز میں نے ڈالی وہ یہ تھی که (COME BACK TO YOUR CREATOR) یعنی اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو تم اپنے خدا کو بھول گئے ہو اور اپنی تباہی کے سامان کر رہے ہو۔اگر تم خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرو گے تو ہلاکت تمہارے سامنے ہے۔“ پھر حضور نے فرمایا: " آج کی تقریب کے متعلق میں نے پتہ کیا تو مجھے پتہ لگا کہ مغرب اور عشاء کے درمیان سب کام ختم ہو جائے گا لیکن آپ دوستوں کے چہروں پر جذبات محبت کے جو آثار مجھے نظر آئے انہوں نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں آپ سے لمبی گفتگو کروں اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اپنے دل کا ایک کو نہ کھول کر آپ کے سامنے رکھ دوں باقی جو کچھ دل میں ہے وہ سب ظاہر کرنے والا نہیں اور نہ ہی مجھے ایسا کرنے کی خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے۔ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا تھا تمثیلی زبان میں کہ ”میرے سارے پیار کو دنیا کے سامنے ظاہر نہیں کرنا“ ہاں بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو جماعت کے مفاد میں بتانی پڑتی ہیں اور بعض ایسی ہوتی ہیں جو ذاتی قسم کی ہوتی ہیں ( کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے پیار کرتا ہے ) اور وہ بتائی نہیں جاسکتیں اور نہ وہ بتانی چاہئیں کیونکہ بعض اوقات ان کے بتانے سے نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔“ احمدیوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے پیار اور محبت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے کہ ہم میں لاکھوں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے سفر کے دوران جب ایک عیسائی عورت نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ ایک سچے مسلمان اور ایک بچے عیسائی میں کیا فرق ہے تو میں نے اسے بتایا کہ ایک بچے مسلمان کا زندہ تعلق خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اور تم اسے سمجھ نہیں سکتیں جب تک میں اس کی کوئی مثال نہ دوں اور میں نے بڑی تحدی سے کہا کہ اسلام کے سوا باقی ساری دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں پائی جاسکتی۔میں نے اس عورت سے کہا کہ میں ایک سچی