تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 194
تاریخ احمدیت۔جلد 24 194 سال 1967ء " ایک بارہ تیرہ سال کا احمدی بچہ مسجد میں کام کیا کرتا تھا۔وہ نیچے سے پیغام میرے پاس لاتا تھا اور میرے پیغام نیچے لے جاتا تھا۔جس وقت دعا ہوئی ساری جماعت پر رقت طاری تھی۔مجھ پر بھی رقت طاری تھی۔ہم نے جہاں اپنے لئے دعا کی وہاں یہ دعا بھی کی کہ اللہ تعالیٰ ان قوموں کو ہدایت دے اور وہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچاننے لگیں۔دعا ختم کرنے کے بعد میں آنکھیں نیچے کئے چند منٹ کھڑا رہا۔پھر میں نے اپنے دوستوں کو دیکھا اور ان کو سلام کیا اسی وقت ہمیں ہوائی اڈہ پر جانا تھا۔اچانک دائیں طرف جو میری نظر اٹھی تو میں نے دیکھا کہ وہ پیارا بچہ جس کی عمر بمشکل بارہ تیرہ سال کی تھی۔اس وقت بھی اس کی آنکھوں سے پانی کا دریا بہہ رہا تھا۔حضور انور کی عظیم الشان روحانی شخصیت کا غیر از جماعت احباب پر جو اثر تھا اس کی ایک جھلک بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔" مجھے جھنگ کے ایک دوست نے خط لکھا کہ ایک غیر احمدی عورت آپ کے ساتھ اسی گاڑی پر سفر کر رہی تھی۔شورکوٹ میں ہماری جھنگ کی جماعت بھی پہنچی ہوئی تھی۔شورکوٹ کے ریلوے سٹیشن پر اس عورت کے منہ سے جو فقرے نکلے اور کسی احمدی نے وہ سنے، وہ یہ تھے کہ مرید تو بہت دیکھے ہیں پر اس قسم کے عقیدت مند مرید ہم نے کبھی نہیں دیکھے اور پیر بھی بڑے دیکھے ہیں مگر ایسا پیر بھی ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔غرض یہ اثر غیر از جماعت افراد بھی لے رہے تھے۔“ فرمایا: ” جب میں یہاں سے گیا ہوں اس سے پہلے میرے دل میں بڑے زور سے یہ تحریک ہوئی تھی کہ پیشگوئیاں ( انذاری ) موجود ہیں۔لیکن وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں ہیں لہذا ان کو دنیا کے سامنے اس طرح رکھا نہیں جاتا، جس طرح انہیں رکھا جانا چاہیئے اور اب وقت ہے کہ میں وہاں جا کر ان قوموں پر اتمام حجت کر دوں۔اپنے دورہ کے دوران فرینکفورٹ میں بھی ، زیورک میں بھی ، ہیگ میں بھی ، ہیمبرگ میں بھی ، کوپن ہیگن میں بھی ،لنڈن میں بھی ، گلاسگو میں بھی ، جہاں