تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 188 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 188

تاریخ احمدیت۔جلد 24 188 سال 1967ء نہیں تھا کہ وہ بڑا تیز مضمون تھا لیکن وہ مضمون میر انہیں تھا۔یہ نہیں تھا کہ میں نے سوچ کر اور عقل پر زور دے کر اُسے بنایا ہو بلکہ جب میں لکھنے لگا۔تو مضمون ذہن میں آتا گیا اور میں لکھتا گیا۔ایک احمدی کہنے لگا کہ میرے ساتھ ایک انگریز بیٹھا ہوا تھا جب آپ نے مضمون پڑھنا شروع کیا تو اس نے حیرانی سے منہ کھولا ( بعض لوگ حیرانی کی حالت میں اپنا منہ کھول لیتے ہیں ) اور پھر ۴۵ منٹ تک اس کا منہ کھلا ہی رہا۔جس وقت میں نے مضمون ختم کیا اور سلام کیا۔اس وقت کوئی چیونٹی بھی چلتی تو مجھے آواز آجاتی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا سارے سٹنڈ (STUNNED) ہوگئے ہیں اپنے اور پرائے بھی۔پھر میں نے جماعت کو ہدایت دی کہ میرا یہ مضمون بہت تھوڑے آدمیوں نے سنا ہے اب اسے گھر گھر پہنچاؤ اور خرچ کا اندازہ لگاؤ ، انہوں نے کہا کہ پچاس ہزار کا پیوں پر کوئی ڈیڑھ سو پونڈ خرچ آئے گا۔یعنی پچاس ہزار کا پیوں پر دو ہزار روپے میں نے کہا ٹھیک ہے اگر پیسے نہیں ہیں تو میں انتظام کر دیتا ہوں۔وہ کہنے لگے رقم کا انتظام ہم کر چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے وہاں رہنے والے احمدیوں کو قربانی کی بڑی توفیق دی ہے۔چنانچہ چند دوستوں نے باہم ملکر یہ فیصلہ کیا کہ ہم اسے شائع کریں گے چنانچہ پچاس ہزار کا پیاں اس مضمون کی وہاں چھپ چکی ہیں۔اب میں نے ہدایت دی ہے کہ اس کا جرمن ، ڈینش اور ڈچ زبان میں ترجمہ ہو جائے اور پھر اگر موقعہ ملا تو سپینش اور اٹالین میں بھی اس ترجمہ کو کروایا جائے گا اور سارے یورپ میں اسے پہنچادیا جائے گا۔میں نے انہیں کہا کہ وقف عارضی کو جاری کرو اور واقفین سے یہ کام لو۔اسے ہر گھر پہنچاؤ " احمدی مستورات سے اہم خطاب 148 66 حضرت خلیفہ المسح الثالث نے ۲۶ / اگست ۱۹۶۷ء کو احمدی مستورات کے ایک اجتماع سے ایک اہم خطاب فرمایا یہ اجتماع قصر خلافت میں ہوا اور اس میں ربوہ اور بیرون جات کے مختلف مقامات کی احمدی مستورات کثیر تعداد میں شامل ہوئیں۔حضور نے اپنے خطاب کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ جماعت احمدیہ کی مستورات اسلام کی خاطر مالی قربانیوں کا ایک مثالی نمونہ قائم کر