تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 174 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 174

تاریخ احمدیت۔جلد 24 174 سال 1967ء ایک بات جس کا اظہار متعدد دوستوں نے کیا یہ تھا کہ جتنے دوستوں نے حضور اقدس کو خلافت کے بعد ایئر پورٹ پر پہلی بار دیکھا۔ہر شخص کو حضور کے چہرہ پر ایک نو راور روشنی نظر آئی جو خدا داد تھی اور جس نے ہر شخص کا دل موہ لیا۔اور اس بات پر پختہ ایمان وایقان پیدا ہوا کہ خلافت کا انتخاب اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے اور جس کو وہ اس منصب پر قائم کر دیتا ہے اس کے چہرہ پر ایک ایسا نور پیدا کر دیتا ہے جو قلوب کو اپنی طرف کھینچے۔اور اس طرح خلیفہ کی محبت لوگوں کے دلوں میں جاگزیں کر دیتا ہے۔“ ایک انگریز کا متاثر مکرم بشیر احمد رفیق صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضور اقدس کا پروگرام لندن میں اتنا مصروف تھا کہ اگر ایک عام آدمی اتنی مشقت کرتا تو اس کی طبیعت میں چڑ چڑا پن اور بیزار پن کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن باوجود اتنی مصروفیت کے حضور کے چہرہ پر سدا بہار مسکراہٹ ، اطمینان اور سکینت ہر وقت قائم رہتی تھی۔مجھ سے ایک انگریز بینک مینجر نے جس کو حضور سے ملنے کا شرف ملا یہ بات بیان کی کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں کسی شخص کے چہرہ پر اتنی رونق ، اطمینان اور سکینت نہیں دیکھی۔حضور اقدس کے لندن کے صرف ایک دن کے کام کی ایک جھلک بیان کرتے ہوئے بشیر احمد رفیق صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضور جمعرات کی رات کو ایک بجے رات تک احباب جماعت میں تشریف فرما ر ہے۔ان کے سوالات کے جوابات دیتے رہے۔ان کو نصائح کیں اور ارشادات سے نوازا۔صبح ۴ بجے مسجد میں نماز فجر کی ادائیگی کے لئے تشریف لائے۔اور مجھے خود پہریداروں نے بتایا کہ حضور کی خواب گاہ میں ۳ بجے شب روشنی ہوگئی تھی۔گویا بمشکل دو گھنٹے سونے کو ملے۔نماز فجر کے بعد غالباً کچھ دیر آرام فرمایا ہو گا۔بجے صبح ناشتہ کی تیاری ساڑھے آٹھ بجے ملاقاتیں شروع ہو گئیں جو ایک بجے تک جاری رہیں۔ہر شخص سے اُٹھ کر ملنا، اُن کی باتیں سنتا ، ہر ایک کو مشورے سے نواز نا کوئی آسان کام نہیں۔ایک سے اڑھائی بجے تک کے وقت میں نماز جمعہ کی تیاری، کھانا وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔۲ بجے سے ڈھائی بجے تک خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور پھر احباب کے جھرمٹ میں کچھ دیر تشریف فرما رہے۔شام کو ے بجے وانڈز ورتھ ٹاؤن ہال میں جماعتی دعوت استقبالیہ میں شرکت فرمانے کے لئے ٹاؤن ہال تشریف لے گئے اور قریباً ۲۰۰ /افراد سے مصافحہ فرمایا۔رات کے ساڑھے نو بجے تک کھانے سے فارغ ہو کر اہم ترین تقریر فرمائی۔