تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 160 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 160

تاریخ احمدیت۔جلد 24 160 سال 1967ء کے لئے حاضر ہوتے رہے اور اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کرتے رہے۔مردوں کے علاوہ خواتین بھی اس میدان میں پیچھے نہ تھیں۔پانچ بجے پریس کانفرنس کا وقت مقرر تھا۔حضور ہوٹل میں تشریف لے گئے۔ایک بھر پور پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دئے۔اپنے سفر کے مقاصد بیان فرمائے۔یہ سب گفتگو بھی محبت کے چھلکتے ہوئے پیالے کی شکل میں تھی۔ہم تو خیر ماننے والے اور محب ہیں۔دوسرے لوگ بھی اتنے گرویدہ تھے کہ ان کے قول و فعل سے اس کا واضح اظہار ہور ہا تھا۔دوسرے دن کے اخبارات میں مؤثر نوٹ شائع ہوئے۔حضور نے مغرب وعشاء کی نمازوں کے بعد احمدیہ ہال میں مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے زیر اہتمام جلسہ سے خطاب فرمایا۔خطاب سے پہلے حضور نے دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔جن میں سے ایک مکرم اخویم نسیم سیفی صاحب کے فرزند کا نکاح تھا جلسہ سے خطاب میں حمد باری اور جماعت سے محبت کا بھر پور ذکر تھا۔اللہ تعالیٰ کے بے پایاں احسانات کے ذکر میں یہ بھی فرمایا کہ جماعت احمد یہ نہایت قابلِ قدر بلکہ بے نظیر جماعت ہے۔فرمایا مجھ سے یورپ میں ایک جگہ ایک اخبار نویس نے پوچھا کہ جماعت احمدیہ میں آپ کا کیا مقام ہے؟ میں نے کہا کہ میں اور جماعت احمد یہ الگ الگ نہیں ہیں۔میں جماعت ہوں اور جماعت مجھ میں ہے۔ساڑھے دس بجے کے قریب حضور کی پیار بھری گفتگوختم ہوئی منتظمین کا فیصلہ تھا کہ اب مصافحہ سے حضور کو تکلیف ہوگی۔کوفت کافی ہو چکی ہے۔یہ اعلان ہونے ہی والا تھا کہ ہزاروں سامعین جو ہوائی اڈہ پر نہ پہنچ سکے تھے ، ان کی آنکھوں اور چہروں کو پڑھتے ہوئے میں نے حضور کی دیرینہ کرم نوازی کے باعث جسارت کر لی اور حضور سے عرض کیا کہ اگر ان دوستوں کو مصافحہ کا موقع نہ ملا تو ان کو صدمہ ہوگا۔میرا عرض کرنا تھا کہ حضور نے فی الفور فرمایا کہ میں تو خود چاہتا ہوں خواہ ایک گھنٹہ لگ جائے۔جھٹ انتظام کا رُخ بدل گیا۔اور مصافحے شروع ہوگئے۔حضورانور نے ہر شخص سے اس بشاشت ،خندہ پیشانی اور پدرانہ شفقت سے مصافحہ کیا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ شاید اسی شخص سے آپ نے ملنا ہے۔دعاؤں کے علاوہ پیار سے زخمہائے فراق کا مداوا فرماتے رہے۔ایک غیر از جماعت شخص نے اپنی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی۔دعا فرمائی اور جھٹ ایک رقم مقامی مربی کو دی کہ اس کے پیچھے جا کر خفیہ طور پر اسے دے آئیں۔اگلے روز ۲۳ راگست کو پھر صبح سے ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ساڑھے چھ بجے شام کے قریب حضور کراچی ریلوے سٹیشن پر تھے۔احباب جماعت کا ایک انبوہ کثیر حاضر تھا۔بہت سے دوسرے دوست بھی موجود تھے۔مصافحہ اور گفتگو کے بعد حضور