تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 114
تاریخ احمدیت۔جلد 24 114 سال 1967ء شامل ہو گئے۔اُن میں ایک معز ز عرب تھے اور دوسری ایک عورت جس کا خاوند پہلے ہی سے احمدی تھا۔یہ عورت جرمن تھیں۔حضور نے اس کا اسلامی نام راشدہ مارٹن تجویز فرمایا۔تیاری کو پن ہیکن حسب پروگرام ۱۹ جولائی کی رات کو ہمبرگ سے کوپن ہیگن روانگی تھی۔حضور نے تیاری کا ارشاد فرمایا اور سامان کی تیاری کی خود نگرانی فرماتے رہے۔بعد میں حضور نے سفر کی کامیابی کے لئے اجتماعی دعا فرمائی اور یہ قافلہ ساڑھے نو بجے ریلوے اسٹیشن ہمبرگ پہنچا۔اتفاق سے گاڑی لیٹ ہوگئی۔کافی دیر تک حضور کو اسٹیشن پر انتظار کرنا پڑا۔ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت مضمر ہوتی ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ احباب حضور کی روانگی کی اطلاع پانے پر اسٹیشن پر پہنچ گئے۔گاڑی کے انتظار میں حضور احباب سے گفتگو فرماتے رہے۔آخر گیارہ بج کر پانچ منٹ پر گاڑی اسٹیشن پر آن پہنچی اور حضور مع قافلہ ہسپانیہ ایکسپریس کے ذریعہ کو پن ہیگن کے لئے روانہ ہو گئے۔دورہ ہمبرگ اور پریس میں وسیع پیمانے پر چرچا 98- یہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ استقبالیہ کی تقریب میں ٹیلی ویژن ٹیم بھی موجود تھی۔اُس نے حضور انور کے علاوہ تقریب کے مختلف مناظر کے فوٹوز لئے۔چنانچہ یہ پروگرام ۱۷ جولائی کی شام کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا جس میں خاص طور پر حضور کو تقریب میں تشہد پڑھتے دکھایا گیا اور ساتھ ہی حضور کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔یہ پروگرام صرف ہمبرگ میں ہی نہیں بلکہ سارے شمالی جرمنی میں دکھایا جاتا ہے۔گویا اس لحاظ سے اگر زیادہ نہیں تو ۸۰ فیصد آبادی کو اسلام واحمدیت کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ ٹیلی ویژن بنا۔ہمبرگ میں بڑے اخبارات چار ہیں اور چاروں نے ہی حضور انور کی آمد کے سلسلہ میں مختلف اوقات میں خبریں اور اس پر مضامین شائع کئے۔نہ صرف مضامین بلکہ بڑے سائز کے حضور کے فوٹوز بھی شائع کئے۔اور خاص طور پر پریس کانفرنس کو تو اخبارات نے بہت اہمیت دی اور بڑے اچھے انداز میں فوٹوز کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔گویا اس طرح ان اخبارات کے ذریعہ حضور انور کی شخصیت ، آپ کا پیغام امن، خدا تعالیٰ سے عدم تعلق کی بناء پر عظیم تباہی کی تنبیہ وغیرہ کا وسیع آبادی کو علم ہو گیا۔