تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 113
تاریخ احمدیت۔جلد 24 113 سال 1967ء ہیں۔اور یہ سب کچھ بڑی بشاشت اور شرافت کے ساتھ۔کہیں بدتمیزی کا مظاہرہ نہیں دیکھا۔ہر پریس کانفرنس میں نمائندگان پر فرشتوں کا رعب مشاہدہ کیا۔فالحمد لله الذي له ملك السموات والارض Warning دے دی گئی اور چھپ بھی گئی ہے۔اتمام حجت ہو گیا ہے۔مگر مغرب کی تاریکی میں ان باتوں کا سمجھنا ان اقوام کے لئے آسان نہیں۔اللہ تعالیٰ رحم کرے۔بے حد مصروفیت میں جسمانی اور دماغی کوفت کا بھی احساس نہیں۔دل خدا کی حمد سے لبریز اور احباب جماعت کی دعاؤں کی ضرورت کا احساس بیدار۔وعلیہ التوكل ولہ الحمد۔سب کو سلام۔تمام احباب جماعت کو دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا سلام پہنچا دیں دعا کی درخواست کے ساتھ۔97 766 ڈاک کا باقاعدگی سے مرکز میں بھیجوانے کا احساس ۱۹ جولائی کی صبح کو حضور کو علم ہوا کہ کافی دنوں کی ڈاک جمع ہو چکی ہے۔چنانچہ حضور نے فرمایا کہ آج اکٹھے بیٹھ کر سارا پچھلا کام ختم کرنا ہے حضور بنفس نفیس نو بجے دفتر میں تشریف فرما ہوئے۔مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب، مکرم چوہدری عبداللطیف صاحب اور مکرم بشیر احمد شمس صاحب حضور کے ساتھ کام میں مصروف ہو گئے۔بارہ بجے دوپہر تک سارا کام ختم کر کے گزشتہ ڈاک کو حضور نے اپنی نگرانی میں پوسٹ کروایا۔فوٹوگرافی ۱۹ جولائی کو ظہر وعصر کی نماز سے فراغت کے بعد ڈرائیور کی خواہش پر حضور نے اُس کے ساتھ فوٹو کھنچوا کر اسے عنایت فرمایا۔حضور نے اس دوران ایک نیا کیمرہ بھی خریدا تھا۔اس موقعہ پر حضور نے خود بھی اپنا کیمرہ لاکر فوٹو گرافی کا شوق فرمایا اور مختلف فوٹوز احباب کی خواہش کے مطابق انہیں عنایت فرمائے۔ممبران نے اس پر بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔اسی طرح حضور مختلف اوقات میں سیرو تفریح کے لئے بھی باہر تشریف لے جاتے رہے۔اس عرصہ قیام میں دو اشخاص نے حضور انور کے ہاتھ پر بیعت کی اور با قاعدہ طور پر جماعت میں