تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 89
تاریخ احمدیت۔جلد 24 89 سال 1967ء سلسلہ میں قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں پائے جاتے ہیں۔میں مختصراً آٹھ بنیادی احکام کا ذکر کرونگا۔مذاہب میں اچھے تعلقات قائم کرنا اسلام کے نزدیک ضروری ہے۔قرآن کریم نے اعلان کیا: وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) اس لیے ہر مذہب کے رسول کی مسلمان عزت اور احترام کرتا ہے اور اس وجہ سے اسلام صلح و امن کی فضا پیدا کرتا ہے۔دوسرے اسلام اس بات سے روکتا ہے کہ دوسرے مذاہب کی قابل احترام ہستیوں یا ہدایتوں کو برا بھلا کہا جائے۔اس پر اس قدر زور دیا ہے کہ بت کو برا بھلا کہنا بھی برا سمجھا گیا ہے۔تیسرے اسلام مذہبی آزادی کو قائم کرتا ہے۔قرآن مجید کہتا ہے۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقره: ۲۵۷) مذہب کا تعلق دل سے ہے۔اور کوئی ہتھیار خواہ وہ ایٹم بم ہی کیوں نہ ہو دل کے خیالات کو بدلنے کے قابل نہیں۔چوتھے اسلام رول آف لاء (Rule of Law یعنی قانون کی حکومت کو قائم کرتا ہے۔پانچویں، بین الاقوامی تعلقات کو اخلاق کی بنیادوں پر اسلام نے قائم کیا ہے۔اس لیے اسلام کے نزدیک کوئی طاقت خواہ روس جتنی بڑی خواہ امریکہ جتنی طاقتور کیوں نہ ہوا سے veto کا حق نہیں ملنا چاہئیے۔بین الاقوامی تعلقات اخلاق پر مبنی ہونے چاہئیں اور کسی قوم کی طاقت زائد حقوق کا حقدارا سے نہیں بناتی۔چھٹے اسلام کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں۔خواہ ان کا تعلق کسی مذہب سے ہو یا کسی ملک سے ہو یا کسی قوم سے ہو یا کسی رنگ سے ہو قرآن کی نگاہ میں اور اللہ کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ساتویں اسلام عدل کو قائم کرتا ہے۔قرآن کہتا ہے لَا يَجْرِ مَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة: 9) عدل کو مذہب کے ساتھ بریکٹ کر دیا ہے اور آٹھویں اسلام کا حکم ہے، جب آپس میں معاہدات کرو تو اُنکی پابندی کرو معاہدات توڑنے کے نتیجہ میں بدامنی پیدا ہوتی ہے صلح کی فضا قائم نہیں رہ سکتی“۔88